انگلش چینل میں روسی جنگی جہاز کی فائرنگ، برطانوی یاٹ نے راستہ تبدیل کرلیا

Russian navy Russian navy
ITAR-TASS: VLADIVOSTOK, RUSSIA. JULY 11, 2013. The Marshal Shaposhnikov, an Udaloy-class destroyer of the Russian Navy, seen in the China-Russia week-long joint naval drill. (Photo ITAR-TASS/ Yury Smityuk) Россия. Владивосток. 11 июля. Большой противолодочный корабль "Маршал Шапошников" во время российско-китайских военно-морских учений "Морское взаимодействие 2013". Фото ИТАР-ТАСС/ Юрий Смитюк

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ روسی جنگی جہاز ایڈمرل گریگورووچ نے انگلش چینل میں ایک برطانوی پرچم بردار یاٹ کے قریب وارننگ فائرنگ کی، جب وہ خطرناک انداز میں جنگی جہاز کے قریب آ رہی تھی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق فائرنگ اس وقت کی گئی جب تمام دیگر احتیاطی اقدامات ناکام ہو گئے۔ روسی بیان کے مطابق منگل کے روز دوپہر سے قبل جنگی جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں آئل آف وائٹ اور فرانس کے علاقے نورمنڈی کے درمیان سفر کر رہا تھا کہ عملے نے “برائٹ فیوچر” نامی یاٹ کو ایسے راستے پر آتے دیکھا جو اسے روسی جنگی جہاز کے انتہائی قریب لے جا سکتا تھا۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روسی عملے نے پہلے ریڈیو کے ذریعے یاٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے بعد سگنل فلیئرز فائر کیے گئے اور سائرن بھی بجایا گیا، لیکن یاٹ نے اپنا رخ تبدیل نہیں کیا۔ جب یاٹ جنگی جہاز سے تقریباً 150 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تو جہاز کے کمانڈر نے چھوٹے ہتھیاروں سے یاٹ کے سامنے وارننگ فائرنگ کا حکم دیا۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق فائرنگ کے فوراً بعد برطانوی یاٹ نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور روسی جنگی جہاز سے دور ہٹ گئی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ روسی عملے نے بین الاقوامی بحری قوانین کے مطابق کارروائی کی اور کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔ یہ واقعہ سب سے پہلے برطانوی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا تھا، تاہم ابتدائی رپورٹس میں یہ ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ یاٹ روسی جنگی جہاز کی جانب بڑھ رہی تھی۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے واقعے پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ انگلش چینل میں پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس وقت روسی جنگی جہاز کی نگرانی برطانوی بحریہ کے گشتی جہاز **ایچ ایم ایس مرسی** کی جانب سے کی جا رہی تھی، تاہم دونوں جہازوں کے درمیان فاصلے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دو روز قبل برطانوی کمانڈوز نے انگلش چینل میں ایک ایسے آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا تھا جس پر روسی تیل کی نقل و حمل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس جہاز کو روس کے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” کا حصہ قرار دیا تھا۔