کانگو میں ایبولا کی وبا افریقہ کی مہلک ترین وباؤں میں تبدیل ہونے کا خدشہ

Covid-19 pandemic Covid-19 pandemic

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

افریقہ کے مراکز برائے امراضِ کنٹرول و انسداد (افریقہ سی ڈی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والی ایبولا کی موجودہ وبا پر جلد قابو نہ پایا گیا تو یہ حالیہ افریقی تاریخ کی سب سے مہلک وباؤں میں سے ایک بن سکتی ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کاسیہ نے افریقی سربراہانِ مملکت کے ایک آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں ایسے افراد ابھی تک شناخت نہیں کیے جا سکے جو ممکنہ طور پر وائرس کے رابطے میں آ چکے ہیں، جس سے وبا کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ وبا مغربی افریقہ میں 2014 سے 2016 کے درمیان پھیلنے والی ایبولا وبا سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں گنی، لائبیریا اور سیرا لیون میں 11 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح 2018 میں جمہوریہ کانگو میں آنے والی ایبولا وبا بھی تاریخ کی دوسری بڑی وبا سمجھی جاتی ہے۔

جمہوریہ کانگو کی وزارتِ صحت کے مطابق 15 جون کو ایبولا کے مزید 29 مصدقہ کیسز اور 4 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ تمام نئے متاثرہ افراد صوبہ ایتوری میں سامنے آئے جبکہ شمالی اور جنوبی کیوو میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ ملک میں اب تک ایبولا کے مجموعی طور پر 837 مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 196 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ وبا سے اموات کی شرح 23.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق 49 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 376 افراد اب بھی قرنطینہ مراکز میں زیرِ نگرانی ہیں۔

وبا اب جمہوریہ کانگو کی سرحدوں سے نکل کر پڑوسی ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ چکی ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق یوگنڈا میں موجودہ وبا سے منسلک 19 مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں 2 افراد ہلاک جبکہ 4 صحت یاب ہو چکے ہیں۔

ادھر کانگو کے مشرقی علاقوں میں جاری بدامنی اور مسلح جھڑپیں بھی وبا کے خلاف کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ باغی گروپ ایم 23 کے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے باعث طبی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق شمالی کیوو کے شہر بوتیمبو کے قریب ایک طبی مرکز پر مسلح افراد نے حملہ کر کے ایبولا سے متاثرہ ایک خاتون اور اس کی 6 سالہ بیٹی کو اغوا کر لیا۔ صحت حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان دونوں کو جلد طبی نگرانی میں واپس نہ لایا گیا تو وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔