زیلنسکی کی بیلاروس کو حملے کی دھمکی

Vladimir Zelensky Vladimir Zelensky

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو سخت انتباہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بیلاروس اپنی جنوبی سرحد پر نصب فضائی دفاعی ریڈار نظام کو ختم کرے، بصورت دیگر یوکرین خود کارروائی کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل روس کے بریانسک علاقے میں بیلاروسی بچوں کی فٹبال ٹیم لے جانے والی ایک بس پر ڈرون حملہ ہوا تھا، جس میں کوچ کی اہلیہ ہلاک جبکہ متعدد بچے زخمی ہوئے تھے۔ بیلاروسی حکام نے اس حملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کییف سے وضاحت طلب کی تھی۔ اس ہفتے لوکاشینکو نے کہا تھا کہ جو عناصر بیلاروس کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے یوکرین سے مطالبہ کیا تھا کہ بس پر حملے اور دیگر مبینہ اشتعال انگیزیوں کے بارے میں جواب دیا جائے۔

دوسری جانب یوکرین نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ جمعے کو کییف میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ لوکاشینکو کو اپنی پرامن نیت ثابت کرنے کے لیے سرحدی علاقے میں موجود فضائی دفاعی نظام اور مواصلاتی آلات ہٹانے چاہئیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ ’’میرے خیال میں ایک ہفتہ اس کام کے لیے کافی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم خود یہ کام کریں گے۔‘‘ بیلاروسی صدر لوکاشینکو متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی کے لیے خطرہ ہے۔ تاہم زیلنسکی نے ان بیانات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الفاظ کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

یوکرینی صدر نے بیلاروس کی تیل صاف کرنے کی صنعت کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور بالواسطہ دھمکی بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلاروس روس کو پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے اور اس سلسلے کو روکا جا سکتا ہے۔

بیلاروس، جو روس کا قریبی اتحادی ہے، 2022 میں شروع ہونے والے تنازعے میں براہِ راست شامل نہیں ہوا، تاہم منسک مسلسل ماسکو اور کییف کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔ گزشتہ برس لوکاشینکو نے زیلنسکی سے ذاتی ملاقات کی پیشکش بھی کی تھی تاکہ ممکنہ سمجھوتوں پر بات چیت کی جا سکے، لیکن یوکرینی قیادت نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

حالیہ ہفتوں میں زیلنسکی بیلاروس سے لاحق مبینہ خطرات کے بارے میں اپنے بیانات میں شدت لاتے رہے ہیں۔ یوکرین کے بغیر پائلٹ نظاموں کی افواج کے کمانڈر اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ بیلاروس میں تقریباً 500 ممکنہ فوجی اور لاجسٹک اہداف کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔