جرمنی میں ریٹائرمنٹ کی عمر 70 سال کرنے کی تجویز زیر غور

Ukrainian solider old Ukrainian solider old

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

جرمنی کی حکومت پنشن نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات پر غور کر رہی ہے، جن کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر بتدریج 67 سال سے بڑھا کر 70 سال کرنے، قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی بعض سہولیات ختم کرنے اور سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کے لیے اضافی مالی شراکت متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن چانسلر Friedrich Merz اور وزیرِ محنت Barbel Bas کی جانب سے قائم کردہ کمیشن منگل کے روز اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ تجویز کردہ اصلاحات کا مقصد ملک کے بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات اور عمر رسیدہ آبادی کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ سے نمٹنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو اوسط متوقع عمر سے منسلک کرتے ہوئے مرحلہ وار 70 سال تک بڑھانے کی سفارش شامل ہے۔ اس کے علاوہ 45 سال تک پنشن فنڈ میں حصہ ڈالنے والے افراد کو بغیر کٹوتی ریٹائرمنٹ کی اجازت دینے والی مقبول اسکیم، جسے “پنشن ایٹ 63” کہا جاتا ہے، ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

کمیشن کا مؤقف ہے کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ اختیار کرنے والے افراد پنشن فنڈز پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں اور لیبر مارکیٹ کو تجربہ کار افرادی قوت سے محروم کرتے ہیں، جبکہ جرمنی کو اس وقت ہنرمند کارکنوں کی شدید ضرورت ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت ملازمین اور آجر دونوں کو اپنی مجموعی اجرت کا مزید 2 فیصد ایک نئے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ میں جمع کرانا ہوگا، جو موجودہ 18.6 فیصد پنشن شراکت کے علاوہ ہوگا۔ جرمنی کو اس وقت بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور ریٹائر ہونے والی “بیبی بومر” نسل کے باعث پنشن نظام کے لیے سنگین مالی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چانسلر فریڈرش مرز متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ موجودہ فلاحی نظام کو موجودہ معاشی حالات میں برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی مرز جرمن شہریوں پر زیادہ محنت کرنے اور معیشت کی بہتری کے لیے پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دے چکے ہیں۔ انہوں نے مختصر اوقاتِ کار اور بیماری کی چھٹیوں کے بڑھتے رجحان پر بھی تنقید کی تھی۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو جرمنی کے پنشن اور سماجی بہبود کے نظام میں یہ حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں شمار ہوں گی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں مزید اضافہ بزرگ شہریوں کے لیے اضافی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔