اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان میں زراعت کے شعبے میں جدید مشینری کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود ملک کے مختلف دیہی علاقوں میں بیلوں کے ذریعے روایتی کھیتی باڑی آج بھی جاری ہے۔ اگرچہ ٹریکٹر، ہارویسٹر اور دیگر جدید زرعی آلات نے بڑے پیمانے پر روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے، تاہم چھوٹے کاشتکار اور دور دراز علاقوں کے کسان اب بھی بیلوں پر انحصار کرتے ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض پہاڑی اور دیہی علاقوں میں کسان آج بھی زمین ہموار کرنے، ہل چلانے اور دیگر زرعی سرگرمیوں کے لیے بیلوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں محدود مالی وسائل اور جدید مشینری تک رسائی نہ ہونے کے باعث روایتی طریقہ کاشت اب بھی قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیلوں کے ذریعے کھیتی باڑی کی ایک بڑی وجہ زرعی اخراجات میں کمی بھی ہے۔ ٹریکٹر کے لیے ایندھن، مرمت اور کرایے کی مد میں اضافی اخراجات برداشت کرنا ہر کسان کے بس کی بات نہیں، جبکہ بیلوں کی دیکھ بھال نسبتاً کم لاگت سے ممکن ہوتی ہے۔ اسی طرح پہاڑی یا تنگ رقبوں پر مشتمل کھیتوں میں بیلوں کے ذریعے کام کرنا بعض اوقات مشینی کاشتکاری سے زیادہ آسان ثابت ہوتا ہے۔ زرعی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں بیل گاڑیاں بھی اب تک استعمال ہو رہی ہیں اور بعض کسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی نسل کے بیل پالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ساہیوال، چولستانی اور دیگر مقامی نسلوں کے بیل ماضی میں زرعی سرگرمیوں کا اہم حصہ تھے اور آج بھی محدود پیمانے پر اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب زرعی ترقی کے باعث پاکستان کی مجموعی زرعی پیداوار کا زیادہ تر انحصار جدید مشینری پر منتقل ہو چکا ہے۔ بڑے زرعی فارموں اور تجارتی زراعت میں بیلوں کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، تاہم دیہی معیشت کے بعض حصوں میں یہ روایت اب بھی زندہ ہے۔ ماہرین کے مطابق روایتی کھیتی باڑی نہ صرف ثقافتی ورثے کا حصہ ہے بلکہ بعض صورتوں میں ماحول دوست زراعت کے طور پر بھی دیکھی جاتی ہے، کیونکہ اس میں ایندھن کا استعمال نہیں ہوتا اور زمین پر مشینری کے دباؤ کے مقابلے میں کم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔