ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے کہا ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں 67 کروڑ 30 لاکھ لوگ ہر رات بھوکے سوتے ہیں جبکہ لاکھوں دیگر لوگوں کو اپنے اگلے کھانے کے بارے میں روزانہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ ورلڈ فوڈ ڈے (16 اکتوبر) کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 80 سال پہلے ممالک نے بھوک کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کی تھی اور اس کے بعد دنیا نے نمایاں ترقی کی ہے، مگر حالیہ بحرانوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری محنت جاری رکھنی ہوگی۔
گوتریس نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نئی چیلنجز سامنے آئے ہیں جن میں موٹاپے کا بڑھتا رجحان، موسمیاتی دھچکے اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور تنازعات میں لوگوں کو بھوکا مارا جا رہا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ ہمارے پاس بھوک ختم کرنے اور سب کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کے اوزار، علم اور وسائل موجود ہیں۔ ہمیں صرف اتحاد کی ضرورت ہے۔