ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت نے مسلح تنازعات کے دوران بچوں کو نشانہ بنانے کے بار بار ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے جرائم کے مرتکبین سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندہ ہریش پرویٹھننی نے کہا کہ “تعلیم ایک حق ہے جس کی تکمیل امن کی طرف سب سے طاقتور قدم ہے۔” انہوں نے کہا کہ “بچوں کا تحفظ بغیر جواب دہی کے نامکمل ہے۔” بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سکول پر جان بوجھ کر حملہ جنگی جرم شمار ہوتا ہے۔ بھارتی نمائندہ نے ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملے، روس کے لوگانسک میں ڈارمیٹری اور سکول پر یوکرینی ڈرون حملے اور بریانسک میں بچوں سے بھری بس پر حملے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ “بھارت مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ اور ان کے سیکھنے، بڑھنے اور مکمل صلاحیتوں کے حصول کے حق کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔”
یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ’بچے اور مسلح تنازع‘ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 2025 میں بچوں کے خلاف خلاف ورزیوں کی سطح “حیران کن” قرار دی گئی ہے۔