ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی ایشیا میں حالیہ ہیٹ ویو جیسی شدید گرمی اب ہر پانچ سال میں ایک بار ہونے کا امکان ہے، جو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حرارت کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ ویذر ایٹری بیوشن کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارت اور پاکستان میں شدید گرمی اب “عام حقیقت” بن چکی ہے۔ تحقیق کے مطابق اپریل کے آخر اور مئی کے شروع میں بھارت اور پاکستان پر آنے والی ہیٹ ویو میں متعدد شہروں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا۔ اس میں بھارت میں کم از کم 37 اور پاکستان کے شہر کراچی میں 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ایسی شدید گرمی اب تین گنا زیادہ ممکن ہو چکی ہے اور یہ اب کوئی نادر واقعہ نہیں رہا۔ امپیریل کالج لندن کی محقق مریم زکریا نے کہا کہ “درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے جس سے بھارت اور پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے لیے جان لیوا صورتحال عام ہوتی جا رہی ہے۔”
