روس نے یوکرین کے اہم قلعے کانسٹنٹینوفکا کا کنٹرول سنبھال لیا، روسی جنرل

Russian Flag Russian Flag

ماسکو (صداۓ روس)

یوکرین کی سب سے مضبوط دفاعی لائن ختم، 13,500 فوجی ہلاک
روس کے جنرل سٹاف کے آپریشنز چیف کرنل جنرل سرگئی روڈسکوئی نے کہا ہے کہ کانسٹنٹینوفکا یوکرین کی “سب سے مضبوط” قلعہ بندی والی بستی تھی جس کی حفاظت 15,500 فوجی کر رہے تھے جن میں سے زیادہ تر روسی آپریشن کے دوران ختم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ہفتے کے روز بریفنگ میں بتایا کہ کئی ہفتوں کی شدید لڑائی کے دوران یوکرینی فوج نے تقریباً 13,500 فوجی، 14 ٹینک، 283 زرہ بند گاڑیاں، 1,400 کاریں، 200 فیلڈ توپ اور 8 ملٹیپل راکٹ لانچ سسٹم کھوئے۔ جنرل نے کانسٹنٹینوفکا کو “ایک بڑا صنعتی اور لاجسٹکس ہب” قرار دیا جو ڈونباس میں کیئف رجیم کا آخری بڑا قلعہ ہے۔ شہر میں 78,000 آبادی تھی اور یہ شیشہ سازی اور دھات کاری کا اہم مرکز تھا۔ کیئف نے 2014 سے شہر کے ارد گرد وسیع دفاعی نظام تیار کیا تھا۔ شہر کے اندر 80 سے زائد رکاوٹیں اور 50 سے زائد مضبوط دفاعی مراکز بنائے گئے تھے جو ٹرین اسٹیشن، ٹیکنیکل کالج، 12 سکولوں، 25 نرسریوں اور 10 فیکٹریوں میں واقع تھے۔

روس نے شہر کو دونوں طرف سے گھیر لیا اور سپلائی روٹس پر فائر کنٹرول حاصل کر لیا. اس کے بعد روسی فوج نے شہر کے اندر پیش قدمی تیز کر دی اور شہر پر مکمل قبضہ کر لیا۔ روڈسکوئی نے کہا کہ یوکرین کی اعلیٰ کمانڈ نے اپنے فوجیوں کی جانیں قربان کر کے شہر کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا تاکہ مغربی اسپانسرز کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ یوکرینی فوج روس کی پیش قدمی روک سکتی ہے۔ روس ڈونباس کو مکمل طور پر آزاد کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔