ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ہفتے کے دوران ایران کے خلاف فضائی حملوں کا تیسرا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایران کے حملے کے جواب میں کی گئی . سینٹ کام کے مطابق اس تازہ حملے میں فضائیہ، بحریہ اور ڈرونز کے ذریعے تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں میزائل اور ڈرون سائٹس، بحری صلاحیتیں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کے مقامات شامل ہیں . یہ حملے اس وقت شروع کیے گئے جب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک قبرصی پرچم بردار کنٹینر جہاز (ایم وی جی ایف ایس گیلیکسی) کو نشانہ بنایا۔ ایران نے اس جہاز پر “غیر مجاز راستے” سے گزرنے پر حملہ کیا اور آبنائے ہرمز کو مزید اطلاع تک بند کرنے کا اعلان کر دیا . اس حملے میں جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا اور ایک شہری عملے کا رکن لاپتہ ہو گیا . امریکی وزیر دفاع پٹ ہیگستھ نے اس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، “ایران نے غلط انتخاب کیا۔ اب انہیں اس کی قیمت چکانا ہوگی” .