المیتیفسک (صدائے روس)
آئل سمٹ آف تاتارستان 2026 کے موقع پر، المیتیفسک اسٹیٹ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی “ہائر اسکول آف آئل” کے ریکٹر، ڈاکٹر آف ٹیکنیکل سائنسز اور تاتارستان اکیڈمی آف سائنسز کے پروفیس الیگزینڈر اناتولیویچ دیاکونوف نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں مستقبل کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
عالمی توانائی فورم کے دوران چیف ایڈیٹر صدائے روس اشتیاق ہمدانی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الیگزینڈر اناتولیویچ دیاکونوف نے کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان توانائی، تعلیم، صنعتی ٹیکنالوجی اور ماہرین کی تیاری کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ جدید تجربات اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ دونوں ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خصوصی گفتگو میں الیگزینڈر دیاکونوف نے آئل سمٹ آف تاتارستان 2026 کو عالمی توانائی کے مسائل پر تبادلہ خیال کا اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فورم میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات صرف تاتارستان یا روس تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو درپیش توانائی کے چیلنجز سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاتارستان کے سربراہ رستم منیخانوف کی فورم میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں سائنس، تعلیم، صنعت اور جدید توانائی کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
الیگزینڈر دیاکونوف کے مطابق دنیا کا توانائی شعبہ تیزی سے تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجیز مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ فورم کے دوران ہائیڈروجن توانائی، شمسی توانائی، ہوا سے توانائی کے حصول، ماحول دوست منصوبوں اور تیل کی صنعت سے وابستہ نمکین پانی (Brines) سے نایاب معدنیات کے حصول جیسے جدید موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام شعبے ہائر اسکول آف آئل کے لیے تحقیق، تعلیم اور ترقی کے اہم میدان ہیں، کیونکہ مستقبل کی صنعت کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ انجینئرز اور ماہرین کی تیاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تات نیفٹ کو بڑے صنعتی منصوبوں، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبے میں کئی دہائیوں کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تات نیفٹ نے گزشتہ سال اپنی 80 سالہ سالگرہ منائی، جو کمپنی کے طویل صنعتی، تحقیقی اور تکنیکی سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کے پاس موجود جدید ٹیکنالوجیز اور تجربات پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تات نیفٹ اپنے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی کو عالمی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

تات نیفٹ یونیورسٹی کے ریکٹر نے تعلیم اور تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے ایسے ماہرین تیار کرنا ضروری ہے جو توانائی کے نئے رجحانات کو سمجھ سکیں اورعملی میدان میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ طلبہ، سائنسدانوں، ماہرین اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون، مشترکہ منصوبوں اور تجربات کے تبادلے کے نئے امکانات موجود ہیں۔

تات نیفٹ کے عالمی کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کمپنی کو مشکل حالات میں تیل کے ذخائر کی تلاش و پیداوار، بٹومین ذخائر اور جدید پیداواری ٹیکنالوجیز کے شعبے میں نمایاں تجربہ حاصل ہے، جسے دنیا کی دیگر توانائی کمپنیوں تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاتارستان، تات نیفٹ اور پاکستان کے درمیان تیل و گیس، پیٹروکیمیکل، جدید توانائی، تحقیق، تعلیم اور صنعتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔