المیتیفسک (صدائے روس)
قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار سرمایہ کاری کے بین الاقوامی ماہر ولیم آئی وائی بیون نے کہا کہ عالمی توانائی کے شعبے میں آنے والی دہائیوں کی سمت مصنوعی ذہانت (AI)، قابلِ تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجیز طے کریں گی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق آئندہ 10 سے 20 برسوں میں دنیا کا توانائی نظام روایتی طریقوں سے نکل کر زیادہ ذہین، مؤثر اور ماحول دوست ماڈل کی جانب بڑھے گا۔
عالمی توانائی فورم کے دوران چیف ایڈیٹر صدائے روس اشتیاق ہمدانی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ولیم آئی وائی بیون نے کہا کہ مستقبل کی سب سے بڑی تبدیلی کسی ایک ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے وسیع استعمال سے آئے گی، جو توانائی کے مختلف شعبوں میں کارکردگی، پیداوار اور وسائل کے بہتر استعمال کو ممکن بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں توانائی اور صنعتی منصوبوں کے کئی مراحل روایتی طریقوں اور انسانی تجربے پر منحصر ہیں۔ اگر ایک پاور پلانٹ یا صنعتی منصوبہ تعمیر کیا جاتا ہے تو ہر منصوبہ الگ انداز میں مکمل ہوتا ہے، تاہم AI کے ذریعے دنیا بھر کے تجربات، ڈیٹا اور بہترین طریقہ کار کو ایک مربوط نظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ولیم آئی وائی بیون کے مطابق مصنوعی ذہانت توانائی کی پیداوار، ترسیل، کھپت اور منصوبہ بندی میں زیادہ درست فیصلوں کو ممکن بنائے گی، جس سے وسائل کے ضیاع میں کمی اور توانائی کے مؤثر استعمال میں اضافہ ہو گا۔
پاکستان اور روس کے درمیان گرین انرجی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ توانائی اور ماحولیاتی چیلنجز کسی ایک ملک تک محدود نہیں، اس لیے مستقبل میں عالمی تعاون، مشترکہ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ انتہائی اہم ہو گا۔

اس موقع پرانہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ہائیڈرو پاور کے وسیع امکانات موجود ہیں، جنہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، توانائی کی بچت اور مختلف شعبوں میں کارکردگی بڑھانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
ماہر توانائی نے کہا کہ توانائی کے مستقبل کے لیے کوئی ایک حل کافی نہیں ہو گا بلکہ ہائیڈرو، شمسی، ہوا، بائیو انرجی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت استعمال کرنا ہو گا۔
فورم میں زیرِ بحث آنے والی توانائی کی جدتوں میں مستقبل قریب میں سب سے زیادہ عالمی اثر رکھنے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں ولیم آئی وائی بیون نے بائیو بیسڈ فیول کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بائیو ڈیزل، بائیو فیول، پائیدار ایوی ایشن فیول (Sustainable Aviation Fuel) اور بائیو ماس جیسے ذرائع توانائی کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق شمسی توانائی دنیا کے کئی حصوں میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے، جبکہ ہوا سے توانائی کا حصول جغرافیائی حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب بائیو ماس تقریباً ہر ملک میں دستیاب ہے، جس کی وجہ سے یہ مستقبل کے اہم توانائی ذرائع میں شامل ہو سکتا ہے۔
ولیم آئی وائی بیون نے زور دیا کہ دنیا کا توانائی کا مستقبل مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، جدید تحقیق، بین الاقوامی تعاون اور مقامی وسائل کے مؤثر استعمال سے تشکیل پائے گا۔
جو ممالک جدت اور ٹیکنالوجی کو اپنی توانائی پالیسی کا حصہ بنائیں گے، وہ مستقبل کے توانائی نظام میں اہم کردار ادا کریں گے۔