ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیل میں قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی ایک متنازعہ تجویز کے تحت فلسطینی قیدیوں کی نگرانی کے لیے نیل مگرمچھوں کو استعمال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے نیل مگرمچھوں کو ‘پالے ہوئے جانور’ کی حیثیت دے کر انہیں جیلوں میں استعمال کرنے کی قانونی راہ ہموار کر لی ہے۔
گذشتہ سال بن گویر نے جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری کھائی بنانے کی تجویز دی تھی، جس کا مقصد قیدیوں کی فرار کی کوششوں کو روکنا اور سیکیورٹی کو مضبوط کرنا تھا۔ تاہم اس وقت اسرائیل نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی نے نیل مگرمچھوں کو جنگلی جانور قرار دیتے ہوئے اسے قانونی طور پر ناقابل عمل قرار دے دیا تھا، کیونکہ انہیں صرف چڑیا گھروں اور وائلڈ لائف سینکچریوں میں رکھنے کی اجازت تھی۔
اس رکاوٹ کو اس ہفتے ختم کر دیا گیا جب ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایڈٹ سلمان نے نیل مگرمچھ کو ‘پالا ہوا جنگلی جانور’ قرار دے دیا، جس سے انہیں جیلوں سمیت مختلف سہولیات میں رکھنے کی گنجائش پیدا ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق سلمان کو وزارت کے قانونی مشیر نے خبردار کیا تھا کہ انہیں مگرمچھوں کی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے، تاہم بن گویر اور سلمان نے قانونی مشیر اور نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی کی سربراہ رایا سوراکی کو دباؤ ڈال کر اس منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کیا۔
ذرائع کے مطابق بن گویر پہلے اس تجویز کو کیتزیوت جیل میں لاگو کرنا چاہتے ہیں، جو جنوبی اسرائیل میں واقع ہے اور جہاں زیادہ تر فلسطینی قیدی رکھے جاتے ہیں۔ اسرائیل جیل سروس نے اس تجویز کا جائزہ لیا اور جنوری کے اوائل میں حماۃ گادر مگرمچھ فارم کا دورہ کیا تاکہ مگرمچھوں سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔
جیل سروس نے اس تجویز کو سازگار قرار دیتے ہوئے چھوٹے مگرمچھوں کو ترجیح دی ہے جن کی قیمت تقریباً 8,000 ڈالر فی مگرمچھ ہے، جبکہ بڑے مگرمچھوں کی قیمت 20,000 ڈالر تک ہے۔ جیل سروس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ رقم جیل کی سیکیورٹی کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے اور نتائج بہتر ہوں گے، کیونکہ چھوٹے مگرمچھ جیل کے احاطے میں بڑھتے ہوئے خطرناک ہو جائیں گے۔