ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں دستخط ہونے کی توقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے دو طرفہ تجارت کو موجودہ 450 ملین ڈالر سے بڑھا کر پانچ سالوں میں 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا پرعزم ہدف مقرر کیا ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر احمد رض نے بتایا کہ افغانستان کی سڑکوں پر انحصار تجارت کو غیر مستحکم صورتحال کا شکار بنا دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تین طرفہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ انتہائی اہم ہے، جو ٹرانزٹ کا وقت 35 دن سے کم کرکے صرف 3 سے 5 دن تک لے آئے گا اور نقل و حمل کے اخراجات میں کم از کم 40 فیصد کمی کرے گا۔ احمد رض کے مطابق 100 سے زائد ازبک کمپنیوں کا اسلام آباد آنا بے مثال ہے اور یہ 2 ارب ڈالر کے ہدف کی طرف اسٹریٹجک پیشرفت کی عکاسی کرتا ہے۔ ازبک کاروباری ادارے ٹیکسٹائل، دواسازی، کان کنی، زراعت اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان میں عدم استحکام اور ایران-امریکہ جنگ کے باعث متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں اور پاکستان کو اس کی بندرگاہوں اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی وجہ سے ایک قابل اعتماد آپشن سمجھا جا رہا ہے۔