ماسکو (صداۓ روس)
محققین نے پھیپھڑوں کے ایڈینو کارسنوما کے لیے ایک نیا مشترکہ علاج تجویز کیا ہے، جو پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک قسم ہے جو معیاری طریقوں سے تقریباً ناقابلِ علاج ہے۔ آر یو ڈی این کی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر اینڈ سیلولر میڈیسن کی سائنسدان الینا گینٹسووا نے سپوتنک کو بتایا کہ کچھ مریضوں میں جینیاتی تغیرات سرجری اور کیموتھراپی جیسے معیاری علاج کو غیر مؤثر بنا دیتے ہیں، جس سے متبادل طریقوں کی فوری ضرورت پیدا ہو جاتی ہے۔
ٹیم نے CRISPR/Cas9 ‘مالیکیولر قینچی’ کا استعمال کرتے ہوئے تبدیل شدہ کینسر سیل کلچرز بنائے۔ انہوں نے ہیڈرون تھراپی، جو تابکاری کی ایک درست شکل ہے جو صحت مند بافتوں کو نقصان پہنچائے بغیر ٹیومر کو نشانہ بناتی ہے، کو PCSK9 inhibitors کے ساتھ ملایا، جو ذیابیطس اور کولیسٹرول کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں ہیں۔
ہیڈرون تھراپی میں چارج شدہ نیوکلیئر ذرات (پروٹون یا نیوٹران) کی شعاعوں کا استعمال کرتے ہوئے مہلک خلیات کو درست طریقے سے شعاع دی جاتی ہے جبکہ صحت مند بافتوں کو بچایا جاتا ہے۔ محققین نے نیوٹران اور پروٹون دونوں کا تجربہ کیا اور پایا کہ مشترکہ علاج دونوں صورتوں میں کارگر رہا۔
اس تحقیق میں چین کی فودان یونیورسٹی کے پروفیسر زوہوئی باؤ کا اہم کردار تھا، جنہوں نے تجویز دیا کہ PCSK9 inhibitors پھیپھڑوں کے کینسر کے خلیات پر تابکاری کے اثر کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس تحقیق کو روسی سائنس فاؤنڈیشن نے سپورٹ کیا اور ٹیم اب جانوروں کے ماڈلز پر اس طریقے کا تجربہ کر رہی ہے اور منصوبہ ہے کہ تابکاری جانداروں میں مدافعتی ردعمل کو کیسے متحرک کرتی ہے اس کا مطالعہ کیا جائے۔