ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سے امریکی ہتھیاروں کے ختم ہوتے ذخائر بشمول فضائی دفاع میزائلوں کے بارے میں جواب طلب کیا ہے۔ متعدد میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ اجلاس میں سامنے آیا، جب سابق صدر بائیڈن کے دور میں یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی اور ایران کے خلاف پانچ ماہ سے جاری امریکی جنگ کے دوران بھاری میزائل استعمال کے بعد امریکی گولہ بارود کے ذخائر کے بارے میں خدشات بڑھ رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کو یقین تھا کہ انہیں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں غلط معلومات دی گئی ہیں اور انہوں نے شکایت کی کہ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ کمی کو دور کر لیا گیا ہے۔ ہیگستھ نے ڈپٹی سیکرٹری آف وار اسٹیفن فائن برگ کو قصوروار ٹھہرایا۔
واشنگٹن پوسٹ اور این بی سی نیوز نے بتایا کہ طویل فاصلے کے میزائلوں اور فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی کمی ان وجوہات میں شامل تھیں جن کی وجہ سے ٹرمپ نے ایران کے خلاف اضافی بڑے حملوں سے گریز کیا۔ اس ہفتے کے شروع میں فنانشل ٹائمز نے رپورٹ دی کہ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ٹرمپ اور ہیگستھ کے درمیان کسی جھگڑے کی تردید کی ہے۔