ایرانی قانون ساز کی سعودی پاکستانی ترکی دفاعی معاہدے پر سخت تنقید

Shahbaz Sharif Shahbaz Sharif

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “کاغذی معاہدہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا. رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ “سعودیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ ایک کاغذی معاہدہ انہیں تحفظ نہیں دے گا، جس طرح امریکیوں کو ایک طرفہ ‘دودھ پلانے’ کے برسوں انہیں تحفظ نہیں دے سکے”. انہوں نے سعودی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پالیسیاں تبدیل کریں تاکہ انہیں دوسروں سے تحفظ مانگنے کی ضرورت نہ پڑے.

یہ معاہدہ، جسے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے، جمعہ کو مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان طے پایا. اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا.

واضح رہے کہ سعودی عرب اس وقت ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا سامنا کر رہا ہے. اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں بھی ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا.