مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کی خفیہ طور پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری

Strait of Hormuz Strait of Hormuz

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق تیل برآمد کرنے والے کئی ممالک خفیہ طور پر آبنائے ہرمز سے فوسل فیول کی ترسیل کر رہے ہیں، جو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے والے عوامل میں سے ایک ہے۔ متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کے آئل ٹینکرز کئی مہینوں سے اپنے ٹرانسپونڈر بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق خفیہ ترسیل کی وجہ سے تیل کی مقدار کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن یہ مارکیٹ کے تخمینے کے مطابق چار ملین بیرل یومیہ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

خفیہ ترسیل کے ساتھ حملوں کا خطرہ بھی ہے، جہاں تنازع کے آغاز سے اب تک ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے 23 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں، جس میں ایک ہلاکت اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ بلومبرگ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے خفیہ ترسیل، پائپ لائنوں کے ذریعے ترسیل اور مختلف ممالک کے قومی تیل کے ذخائر کو استعمال کرنے سے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے معاشی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بتایا کہ اس وقت روزانہ تقریباً آٹھ سے نو ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔