عالمی خوراک کے نظام کے تین ستون خطرے میں، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

food food

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

نیویارک ٹائمز نے 23 اگست کو رپورٹ دی ہے کہ عالمی خوراک کا نظام تین اہم ستونوں — مستحکم تجارت، توانائی کی دستیابی اور مستحکم موسم — پر منحصر ہے، مگر فی الحال یہ تینوں عوامل خطرے میں ہیں۔ گویلف یونیورسٹی کے پروفیسر ایوان فریزر نے کہا کہ آج ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں ہوتی۔

عالمی خوراک کی فراہمی کو درپیش ایک بڑا خطرہ گندم کی پیداوار میں کمی ہے۔ یورپ میں غیر معمولی گرمی اور خشک سالی نے کئی بڑے ممالک میں پیداوار کو منفی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر غریب ممالک میں جو خوراک کی درآمدات پر منحصر ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ اسود جنگ کا میدان ہے اور بحیرہ احمر میں حوثی حملوں نے جہاز رانی کو جنوبی افریقہ کے راستے طویل اور مہنگے سفر پر مجبور کر دیا ہے۔ بڑے گندم فراہم کنندگان پر انحصار عالمی خوراک کے نظام کے لیے ایک اضافی خطرہ ہے۔ دی گارڈین نے 18 اگست کو رپورٹ دی کہ فرانس، اٹلی اور اسپین میں طویل گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ فرانس میں 2026 کی مکئی کی فصل 35 فیصد کم ہو کر 9 ملین ٹن رہ سکتی ہے، جو 1980 کے بعد کم ترین سطح ہے۔