ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹ کلف کا منگل کو ماسکو کا اچانک دورہ روس اور امریکا کی سکیورٹی سروسز کے درمیان رابطوں کے سلسلے میں تھا۔ امریکی فضائیہ کا سی-17 اے گلوب ماسٹر تھری طیارہ، جس کی شناخت پروازوں کی نگرانی کرنے والے نظام نے آر سی ایچ 4555 کے طور پر کی، اتوار کی شام جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ریگا پہنچا اور منگل کو ماسکو کے ونوکووو ہوائی اڈے پر اترا۔ اسی روز ماسکو کے مرکزی علاقے میں امریکی سفارتی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کا قافلہ بھی دیکھا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے صورت حال سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جان ریٹ کلف ماسکو میں ملاقاتوں کے لیے موجود تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس دورے میں امریکا کے دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ ریٹ کلف کا دورۂ ماسکو تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہا۔
واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے دورے کے مقصد کے بارے میں پوچھے جانے پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ ’’سکیورٹی سروسز کے درمیان رابطوں‘‘ کے لیے تھا، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ پیسکوف نے روسی خبر رساں ادارے تاس کو الگ سے بتایا کہ امریکی سی آئی اے سربراہ کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات طے نہیں تھی۔
میڈیا رپورٹس میں ان خفیہ مذاکرات کے ممکنہ موضوعات کے طور پر زیرحراست افراد سے متعلق مذاکرات، یوکرین میں امن عمل، ایران کا تنازع اور تزویراتی استحکام سے متعلق وسیع تر امور کا ذکر کیا گیا ہے۔
جان ریٹ کلف اور روسی اعلیٰ حکام کے درمیان آخری علانیہ رابطہ مارچ 2025 میں ہوا تھا، جب سی آئی اے سربراہ نے روسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس وقت روسی خفیہ ادارے نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے بین الاقوامی استحکام و سلامتی کے فروغ اور ماسکو واشنگٹن تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
جان ریٹ کلف کا دورۂ ماسکو نومبر 2021 کے بعد کسی موجودہ سی آئی اے سربراہ کا ماسکو کا پہلا معلوم دورہ ہے۔ نومبر 2021 میں اس وقت کے سی آئی اے سربراہ ولیم برنز نے ماسکو کا دورہ کیا تھا، جو یوکرین تنازع میں فروری 2022 میں ہونے والی بڑی کشیدگی سے چند ماہ قبل ہوا تھا۔ سی آئی اے اور روسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے سربراہان کے درمیان ریٹ کلف کے دورے سے قبل آخری معلوم بالمشافہ ملاقات نومبر ۲۰۲۲ء میں انقرہ میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر ولیم برنز اور سرگئی ناریشکن نے جوہری کشیدگی کے خطرات اور زیرحراست امریکی شہریوں سے متعلق امور پر بات چیت کی تھی۔