صدر پوتن کی روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام مستقل کرنے کی تجویز

Chinese President Xi Jinping with Russian counterpart Vladimir Putin Chinese President Xi Jinping with Russian counterpart Vladimir Putin

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس چین کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ویزا فری سفری نظام کو مستقل کرنے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ چینی فریق اسے ممکن اور مفید تصور کرے۔ پوتن نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران کہا کہ روس، چین کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان ویزا فری نظام کو مستقل بنانے کے لیے تیار ہے، اگر چینی حکومت بھی اسے ممکن اور مفید سمجھتی ہے۔ روسی صدر کے مطابق ویزا فری سفر کے باعث رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران روس اور چین کے درمیان سیاحوں کی آمدورفت میں ۴۳ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یکم دسمبر ۲۰۲۵ کو پوتن نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت چینی شہریوں کو باہمی اصول کی بنیاد پر ۱۴ ستمبر ۲۰۲۶ تک زیادہ سے زیادہ ۳۰ دن کے لیے بغیر ویزا روس میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس سے قبل چین بھی روسی شہریوں کے لیے اسی نوعیت کا ویزا فری نظام متعارف کرا چکا تھا۔ بعد ازاں دونوں ممالک نے بغیر ویزا داخلے کی سہولت کو باہمی طور پر ۲۰۲۷ کے اختتام تک بڑھا دیا۔ ماسکو میں تعینات چینی سفیر ژانگ ہان ہوئی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ویزا فری نظام کے نفاذ کے بعد چین سے روس آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ ۲۰۲۶ کی پہلی سہ ماہی میں چینی سیاحوں کی روس آمد تقریباً ڈیڑھ گنا بڑھ گئی۔