تنازعات کی روک تھام، مالیاتی نظام اور تجارت پر زور: صدر پوتن کا ایس سی او اجلاس سے خطاب

Putin Putin

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ دنیا میں مسلح تنازعات کو ہوا دینے اور ان کی اشتعال انگیزی روکنے کے لیے تمام ممالک کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پوتن نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ روسی صدر نے کہا کہ دنیا میں مسلح تنازعات کی کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے تمام ممالک کو ہر ممکن اقدامات کرنے چاہییں۔

انہوں نے کہا، ’’آج یکم ستمبر ہے، یہی وہ دن ہے جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تھی۔ ہمیں مسلح تنازعات کی کسی بھی اشتعال انگیزی کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری موجودہ مشترکہ کوششیں ہمیں اسی سمت لے جا رہی ہیں۔‘‘ صدر پوتن نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ترقیاتی بینک کو ان ممالک کے مالیاتی نظام سے زیادہ سے زیادہ آزاد ہونا چاہیے جو عالمی معاملات میں یکطرفہ فائدے حاصل کرنے کے لیے اقتصادی ذرائع کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یہ بینک مشترکہ اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی منصوبوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جیسا کہ تنظیم کی کاروباری کونسل اور بین بینکی انجمن کر رہی ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ قیام کے ۲۵ برسوں کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم نے ایک طویل سفر طے کیا ہے اور اب یہ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا ایک آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تنظیم کا قیام ۲۰۰۱ء میں روس، چین، قازقستان، تاجکستان، کرغزستان اور ازبکستان کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کے بعد تنظیم میں وسعت آئی اور اس کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

صدر پوتن کے مطابق گزشتہ سال روس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم ۴۰۰ ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔ انہوں نے بتایا کہ روس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی لین دین میں قومی کرنسیوں کا حصہ ۹۸ فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ پوتن نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سیاسی، اقتصادی اور انسانی شعبوں میں فعال تعاون کر رہے ہیں، جس سے ہر رکن ملک کی پائیدار ترقی اور پورے یوریشیائی خطے میں امن، استحکام، اعتماد اور تعاون کی فضا کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ایک اہم عملی ترجیح ہے، جس سے تمام ممالک کو واضح فوائد حاصل ہوں گے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے ساتھ عوامی بہبود میں بہتری آئے گی۔

روسی صدر نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ توانائی کے شعبے میں مربوط اور متوازن پالیسی جاری رکھی جائے۔ انہوں نے تنظیم کی ۲۰۳۰ء تک توانائی تعاون کی حکمت عملی کے تحت توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر زور دیا۔ پوتن نے اعلان کیا کہ روس ۲۰۲۸ء میں ساتویں عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کا شہر کازان ۲۰۲۸ء میں ان کھیلوں کے اگلے مقابلوں کی میزبانی کرے گا اور روس دلچسپی رکھنے والے ممالک کی ٹیموں کا خیرمقدم کرنے کا منتظر ہے۔