ماسکو (صداۓ روس)
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں یوکرین تنازع کا ذکر نہ ہونا روسی سفارت کاری اور تنظیم کے اندر ماسکو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے اجلاس کے دوران تقریباً دو درجن اہم دستاویزات منظور کیں، جن میں تنظیم کے قیام کی ۲۵ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کیا گیا بشکیک اعلامیہ بھی شامل ہے۔ تاہم اعلامیے میں یوکرین تنازع کو شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ تنازع روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری شدید جغرافیائی سیاسی کشمکش کا مرکزی موضوع ہے۔ اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے عالمی سطح پر مسلح تنازعات کی اشتعال انگیزی روکنے کے لیے تمام ممالک سے ہر ممکن اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم ستمبر دوسری عالمی جنگ کے آغاز کا دن ہے اور عالمی برادری کو مسلح تنازعات کی کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں رکن ممالک نے عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال، علاقائی تنازعات، بین الاقوامی سلامتی، دہشت گردی، جوہری عدم پھیلاؤ اور اقتصادی تعاون سمیت متعدد امور پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا، تاہم یوکرین تنازع کو براہ راست زیر بحث نہیں لایا گیا۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ روس شنگھائی تعاون تنظیم کے بنیادی اور سب سے بااثر ارکان میں شامل ہے، جبکہ چین، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک بھی تنظیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تنظیم کا عمومی مؤقف خودمختاری، عدم مداخلت، کثیر قطبی عالمی نظام اور تنازعات کے سیاسی و سفارتی حل کی حمایت پر مبنی ہے۔ اعلامیے میں رکن ممالک نے خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کی اور انسانی حقوق کے معاملے میں دوہرے معیار کو مسترد کیا۔ روسی صدر نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے قیام کے ۲۵ برسوں میں ایک طویل سفر طے کر چکی ہے اور اب ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا ایک آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے۔ پوتن کے مطابق گزشتہ سال روس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم ۴۰۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ روس اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی لین دین میں قومی کرنسیوں کا حصہ ۹۸ فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام فریقوں کو واضح فوائد حاصل ہوں گے اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔ پوتن نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ترقیاتی بینک کو ایسے ممالک کے مالیاتی نظام سے زیادہ سے زیادہ آزاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جو اقتصادی ذرائع کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ مستقبل میں تنظیم کا ترقیاتی بینک رکن ممالک کے درمیان مشترکہ اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی منصوبوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ مؤقف شنگھائی تعاون تنظیم کے اس مشترکہ رجحان سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت رکن ممالک عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے، قومی کرنسیوں میں باہمی تجارت کو فروغ دینے اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کی مخالفت پر زور دیتے رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک اعلامیے میں جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد اور عالمی جوہری تخفیف اسلحہ کے عمل کو مضبوط بنانے کی حمایت کی گئی۔ رکن ممالک نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے حق پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ خلا کو ہتھیاروں کی دوڑ سے محفوظ رکھنے اور عالمی میزائل دفاعی نظاموں کی یکطرفہ توسیع کی مخالفت کی گئی۔ اعلامیے میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔
رکن ممالک نے دہشت گرد، علیحدگی پسند اور انتہا پسند گروہوں کو مفاداتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے تحت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کی حمایت کی۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ایران کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے تنازعات کے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل پر زور دیا گیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے افغانستان میں وسیع نمائندگی پر مبنی جامع حکومت کے قیام کو پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا۔ تنظیم نے افغانستان کو ایک آزاد، غیر جانب دار اور پرامن ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ہو۔
بشکیک اجلاس کے مجموعی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، سلامتی، سیاسی اور سفارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یوکرین تنازع کو مشترکہ اعلامیے سے باہر رکھنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ تنظیم مغربی ممالک کے دباؤ سے ہٹ کر اپنے رکن ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور کثیر قطبی عالمی نظام کو ترجیح دینے کی پالیسی پر قائم ہے۔