شنگھائی تعاون تنظیم کا بشکیک اعلامیہ جاری، یوکرین تنازع کا ذکر شامل نہیں

SCO SCO

بشکیک (صداۓ روس)

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بشکیک اعلامیے پر دستخط کر دیے۔ اعلامیے میں یوکرین تنازع کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ جوہری عدم پھیلاؤ، عالمی اقتصادی نظام میں اصلاحات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، دہشت گردی کے خاتمے، افغانستان اور خلائی ہتھیاروں سمیت متعدد اہم امور پر مشترکہ مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ اعلامیہ تمہید سمیت چار حصوں پر مشتمل ہے، جس میں رکن ممالک نے عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال، موجودہ خطرات اور باہمی تعاون کے مزید شعبوں پر مربوط مؤقف اختیار کیا ہے۔ اعلامیے میں انسانی حقوق کے معاملے پر دوہرے معیار کی مخالفت کرتے ہوئے خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ رکن ممالک نے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو عالمی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملے میں دوہرے معیار قابل قبول نہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے عالمی اقتصادی نظم و نسق کے نظام میں مزید بہتری اور اصلاحات کی حمایت کی ہے۔ اعلامیے میں کھلے، شفاف، منصفانہ، جامع اور غیر امتیازی کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کی گئی، جو عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دے، منڈیوں تک منصفانہ رسائی یقینی بنائے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرے۔ رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے دیگر اصولوں کے منافی یکطرفہ جبری اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندیاں عالمی سلامتی، بالخصوص غذائی، توانائی اور انسانی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔

اعلامیے میں عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی عالمی مالیاتی اداروں کے فیصلہ ساز اداروں میں نمائندگی اور کردار بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ رکن ممالک نے شنگھائی تعاون تنظیم کے بینکوں کے درمیان مالی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ایران کے نامزد بینک کو تنظیم کے بین بینکی کنسورشیم سے منسلک کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی بھی حمایت کی گئی۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعات کے سفارتی اور سیاسی حل کی حمایت کی ہے۔ اعلامیے میں ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ تنازع صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ رکن ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ تنظیم کے رکن ممالک نے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے المناک انتقال پر ایران سے تعزیت بھی کی۔

اعلامیے میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ رکن ممالک نے دہشت گرد، علیحدگی پسند اور انتہا پسند گروہوں کو مفاداتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے تحت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے ان رکن ممالک نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی شقوں پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا جو اس معاہدے کے فریق ہیں۔ اعلامیے میں عالمی جوہری تخفیف اسلحہ کے عمل اور جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانے کی حمایت کی گئی ہے۔ رکن ممالک نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور استعمال کے اپنے حق پر بھی زور دیا اور اس شعبے میں مساوی، پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی بین الاقوامی تعاون کی حمایت کی۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم فوجی یا سیاسی اتحاد نہیں اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہے۔ رکن ممالک نے تنظیم کے بنیادی اصولوں میں کھلے پن، عدم مداخلت، مساوات اور باہمی احترام کو شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے بلاک بندی اور محاذ آرائی پر مبنی طریقہ کار سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اعلامیے میں ریاستوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے اور دیرپا عالمی امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔ رکن ممالک نے بیرونی خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔

اعلامیے میں ایسے بین الاقوامی معاہدے کی حمایت کی گئی جو شفافیت کو فروغ دے اور خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف قابل اعتماد ضمانتیں فراہم کرے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے انفرادی ممالک یا گروہوں کی جانب سے عالمی میزائل دفاعی نظام کی یکطرفہ اور غیر محدود توسیع کو عالمی سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی ملک کو اپنی سلامتی دوسرے ممالک کی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہیں بنانی چاہیے۔ رکن ممالک نے دوسری عالمی جنگ کے نتائج کی یاد کو محفوظ رکھنے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں کی مخالفت کے عزم کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں تاریخی حقائق کو تبدیل کرنے یا تاریخ کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی گئی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ایسی جامع حکومت کے قیام کو ضروری قرار دیا جس میں ملک کے تمام نسلی اور سیاسی گروہوں کی وسیع نمائندگی ہو. اعلامیے میں افغانستان کو ایک آزاد، غیر جانب دار اور پرامن ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ہو۔ رکن ممالک نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔