ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اپنے حالیہ دورے کے دوران ولادیمیر زیلنسکی کی ٹیم کے رویے سے “حیران” رہ گئے۔ یوکرینی رکن پارلیمنٹ انا اسکوروخود نے یہ دعویٰ کیا ہے۔ وٹکوف اور کشنر اتوار کو کیف گئے تھے جہاں انہوں نے زیلنسکی سے مذاکرات کیے، اس سے ایک روز قبل انہوں نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔ اسکوروخود نے منگل کو یوکرینی صحافی لانا شیوچک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ حیران ہو کر گئے، اور یوکرینی حکام کے نامناسب رویے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عظیم رہنما یہ نہیں سمجھتے کہ کچھ صورتحال میں مذاق کیا جا سکتا ہے، لیکن کچھ چیزیں نہ صرف نامناسب بلکہ ناقابل فہم ہیں۔
اسکوروخود نے خاص طور پر ڈیوڈ آراخمیا کی طرف اشارہ کیا، جنہوں نے امریکی نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں ‘کیف حکومت’ لکھی ہوئی ٹی شرٹ پہنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے لوگ بڑی تعداد میں مر رہے ہیں، محاذ پر مکمل ناکامی ہے، اور ہمارے پاس بیلسٹک میزائل مار گرانے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو ہم ٹرمپ کے ایلچوں کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ اسکوروخود نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وٹکوف اور کشنر ماسکو میں مذاکرات کے بعد کیف کو پہلے سے “بدتر” امن شرائط لے کر آئے تھے۔ زیلنسکی نے امریکی مذاکرات کاروں کے دورے کا مختلف جائزہ دیا اور کہا کہ انہوں نے کچھ اچھے خیالات پیش کیے۔