فورم ’’آل رشیا—2026‘‘ میں صحافیوں اور میڈیا ماہرین کی تفصیلی گفتگو؛ اعتماد سازی سے سائبر سکیورٹی اور اطلاعاتی جنگ تک اہم سوالات زیرِ بحث، صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کی بھی سوال و جواب میں شرکت-

روس کے ساحلی شہر سوچی میں منعقد ہونے والے جدید صحافت کے 30ویں سالانہ فورم ’’آل رشیا—2026‘‘ کے دوران وفاقی اطلاعاتی و سیاسی جریدے ’’پرسونا استرانی‘‘ کے زیرِ اہتمام ہونے والی ایک اہم اور تفصیلی گول میز نشست میں جدید صحافت کے ان پہلوؤں پر گفتگو ہوئی جن کا تعلق صرف خبر حاصل کرنے سے نہیں بلکہ صحافی اور اس کے ذرائع کے درمیان اعتماد، حساس معلومات کی ذمہ دارانہ اشاعت، ڈیجیٹل تحفظ، سائبر حملوں کے خطرات اور ریاستوں کی اطلاعاتی خودمختاری سے بھی ہے۔
یہ نشست اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ گفتگو رسمی تقاریر تک محدود نہیں رہی بلکہ صحافیوں نے اپنے عملی تجربات، مشکلات اور ان سوالات کو سامنے رکھا جن کا سامنا آج تقریباً ہر نیوز روم کو ہے۔ ایک طرف یہ سوال زیرِ بحث آیا کہ ایسی معروف اور اہم شخصیات سے خصوصی انٹرویو کیسے حاصل کیا جائے جو میڈیا سے دور رہتی ہیں، بہت کم صحافیوں سے بات کرتی ہیں یا حساس نوعیت کی ذمہ داریوں اور حالات کی وجہ سے کھل کر گفتگو نہیں کرتیں، تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھا کہ جب صحافت کا ایک بڑا حصہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکا ہے تو صحافی اپنے ذرائع، دستاویزات، ای میل، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پورے ادارتی نظام کو کیسے محفوظ رکھیں۔
نشست کا بنیادی موضوع ’’خصوصی انٹرویو کا حصول: میڈیا سے دور اور مشکل رسائی رکھنے والی شخصیات کے ساتھ کام کرنے کے طریقے‘‘ تھا۔ گول میز کی نظامت جریدے ’’پرسونا استرانی‘‘ کی چیف ایڈیٹر الیزاویتا ابرامووا اور روسی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری رومان سیریبریانی نے مشترکہ طور پر کی۔
ابتدائی گفتگو میں یہ سوال سامنے آیا کہ آخر خصوصی انٹرویو کی اصل تعریف کیا ہے؟ کیا کسی معروف شخصیت سے چند سوالات کے جواب لے لینا ہی خصوصی انٹرویو ہے، یا اس کے لیے طویل تیاری، اعتماد، پس منظر کا علم اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے جس میں مخاطب روایتی اور رسمی جملوں سے آگے بڑھ کر حقیقی گفتگو کر سکے؟
الیزاویتا ابرامووا نے اس حوالے سے جریدے ’’پرسونا استرانی‘‘ کے عملی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا سے دور رہنے والی شخصیات کے ساتھ رابطہ اور ان سے گفتگو جریدے کی صحافتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بعض اہم شخصیات تک پہنچنے کے لیے صحافی کو کئی ماہ ہی نہیں بلکہ کئی سال تک کوشش اور رابطہ برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
ان کے مؤقف کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایسے انٹرویوز میں سب سے پہلی شرط ایمانداری اور اعتماد ہے۔ اگر کوئی صحافی کسی شخصیت کے قریب صرف اس مقصد سے پہنچے کہ اس کی کوئی نجی یا حساس بات حاصل کرکے اسے سنسنی خیز سرخی میں تبدیل کر دے تو ممکن ہے اسے وقتی طور پر زیادہ ویوز اور توجہ مل جائے، لیکن طویل مدت میں وہ نہ صرف اپنے ذریعے کا اعتماد کھو دے گا بلکہ اپنے ادارے اور اپنے پیشہ ورانہ نام کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
ابرامووا نے اس بات پر خاص زور دیا کہ ایک ذمہ دار صحافی کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس کے پاس کتنی بڑی خبر آ گئی ہے، بلکہ اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کسی معلومات کی اشاعت انٹرویو دینے والے کی آئندہ زندگی، پیشہ ورانہ مستقبل، خاندان، شہرت اور بعض حالات میں اس کی سلامتی پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔
بعض شخصیات کے لیے میڈیا کے سامنے اپنے کام، تجربات یا زندگی کے حساس پہلوؤں کے بارے میں کھلنا معمولی بات نہیں ہوتی۔ بعض حالات میں ایسی معلومات منظرِ عام پر آنا متعلقہ فرد کے لیے حقیقی خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے صحافی کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انٹرویو کے دوران کہی جانے والی ہر بات لازماً اشاعت کے لیے نہیں ہوتی۔
گفتگو میں صحافی اور انٹرویو دینے والے کے درمیان ’’آن دی ریکارڈ‘‘ اور پس منظر کے لیے فراہم کی جانے والی معلومات کے فرق کی اہمیت بھی سامنے آئی۔ اگر کوئی شخصیت اعتماد کے تحت کسی بات کی وضاحت صرف اس لیے کرتی ہے کہ صحافی معاملے کا پس منظر بہتر طور پر سمجھ سکے تو اسے اجازت کے بغیر سنسنی خیز خبر میں تبدیل کرنا صحافتی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشکل رسائی رکھنے والی شخصیت کا اعتماد حاصل کرنے کا کوئی فوری فارمولا نہیں ہے۔ مسلسل پیشہ ورانہ رابطہ، درست تیاری، متعلقہ شخصیت کے کام اور پس منظر کا علم، سوالات کا معیار اور صحافی کی اپنی سابقہ ساکھ اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایک اچھا صحافی کسی شخصیت کے سامنے صرف سوالات کی فہرست لے کر نہیں بیٹھتا بلکہ پہلے اس شخصیت کے کام، ماضی، مؤقف اور متعلقہ حالات کا مطالعہ کرتا ہے۔ جب مخاطب کو محسوس ہوتا ہے کہ سامنے بیٹھا صحافی موضوع کو سمجھتا ہے اور محض ایک سنسنی خیز جملے کے انتظار میں نہیں، تو گفتگو کا معیار خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔
ابرامووا کے خطاب کا ایک اہم پہلو موجودہ دور کی ویوز جرنلزم سے متعلق بھی تھا۔ آج بہت سے میڈیا پلیٹ فارمز پر توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسی سرخیاں استعمال کی جاتی ہیں جن کا مقصد خبر سمجھانا کم اور فوری ردعمل حاصل کرنا زیادہ ہوتا ہے۔ مقررین کے مطابق اس طرزِ عمل سے صحافت کا بنیادی رشتہ، یعنی صحافی، ذریعہ اور قاری کے درمیان اعتماد، کمزور پڑ سکتا ہے۔
خصوصی انٹرویو کی کامیابی صرف اس میں نہیں کہ اس سے کوئی تنازع پیدا ہو جائے۔ بعض اوقات بڑی صحافتی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ ایک معروف مگر کم گو شخصیت پہلی مرتبہ اپنی زندگی، جدوجہد، فیصلوں اور انسانی تجربات کے بارے میں ایسے انداز میں بات کرے جو اس سے پہلے عوام کے سامنے نہ آیا ہو۔
گفتگو کے اگلے حصے میں توجہ ایک ایسے خطرے کی طرف منتقل ہوئی جس سے آج تقریباً ہر صحافی اور میڈیا ادارہ دوچار ہے، یعنی ڈیجیٹل سکیورٹی۔
اس موضوع پر ZT Telecom کے بانی سرگئی مالاخوف نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل سلامتی کو صرف کمپیوٹر میں اینٹی وائرس نصب کرنے یا ایک مشکل پاس ورڈ رکھنے تک محدود سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ ایک جدید نیوز روم میں ای میل، کلاؤڈ اسٹوریج، موبائل فون، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ویب سائٹ، داخلی رابطے، رپورٹرز کے ذرائع، تصاویر، ویڈیوز، مالی معلومات اور متعدد دیگر ڈیجیٹل نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حصے میں موجود کمزوری پورے ادارے کو متاثر کر سکتی ہے۔
مالاخوف نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل سکیورٹی کی خلاف ورزی سے صرف کمپیوٹر یا ویب سائٹ عارضی طور پر بند نہیں ہوتی بلکہ اس کے نتیجے میں مالی نقصان، ادارتی کام میں تعطل اور سب سے بڑھ کر ساکھ کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
صحافیوں کے لیے مسئلہ اس لیے مزید حساس ہے کہ ان کا کام ہی لوگوں سے مسلسل رابطہ رکھنا ہے۔ رپورٹرز کو ہر روز نامعلوم نمبروں سے فون کالز، ای میلز، دستاویزات، ویڈیوز، تصاویر، پریس ریلیز، فائلیں اور انٹرنیٹ لنکس موصول ہوتے ہیں۔ کوئی حملہ آور اسی معمول کا فائدہ اٹھا کر خود کو کسی ذریعے، پریس سروس یا شناسا شخص کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
مالاخوف نے سائبر تحفظ کے حوالے سے ایک اہم اصول بیان کیا کہ ایک ٹیم کے بنائے ہوئے حفاظتی نظام کو دوسری ماہر ٹیم سے آزمایا جانا چاہیے۔ اگر کسی ادارے نے اپنا ڈیجیٹل حفاظتی نظام تیار کیا ہے تو اسے صرف یہ سمجھ کر محفوظ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے اپنے آئی ٹی ماہرین نے اسے بنایا ہے۔
ان کے مطابق بیرونی سکیورٹی آڈٹ اور اخلاقی بنیادوں پر کام کرنے والے سائبر ماہرین، جنہیں عمومی طور پر وائٹ ہیٹ ہیکرز کہا جاتا ہے، سے نظام کی کمزوریاں تلاش کروانا مفید ہو سکتا ہے۔ مقصد کسی ادارے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حقیقی حملہ آور سے پہلے اس کی کمزوریاں سامنے لانا اور انہیں دور کرنا ہے۔
یہاں صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اور بین الاقوامی صحافی اشتیاق ہمدانی نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق عملی سوال اٹھایا۔ سوال کا بنیادی پہلو یہ تھا کہ ایک فعال صحافی، جسے روزانہ بڑی تعداد میں لوگوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، اور ایک میڈیا ادارہ اپنے ذرائع، ادارتی رابطوں اور حساس معلومات کو موجودہ سائبر خطرات سے کس طرح محفوظ رکھ سکتا ہے اور تحفظ کے کون سے اقدامات عملی طور پر زیادہ مؤثر ہیں۔
اس سوال کے جواب اور اس کے بعد ہونے والی گفتگو میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سکیورٹی صرف ایک آئی ٹی ماہر کی ذمہ داری نہیں بلکہ ادارے کے ہر رکن کو بنیادی ڈیجیٹل احتیاط سے واقف ہونا چاہیے۔
مضبوط اور ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ، دو مرحلہ جاتی تصدیق، اہم ڈیٹا کی محفوظ بیک اَپ کاپیاں، ادارے کے اندر مختلف افراد کو صرف ان کی ذمہ داری کے مطابق رسائی دینا اور مرکزی اکاؤنٹس کے اختیارات محدود اور قابلِ اعتماد افراد کے پاس رکھنا ضروری ہے۔
اسی دوران رومان سیریبریانی نے ڈیجیٹل حملوں کے ایک اور اہم پہلو یعنی انسانی کمزوری پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید سائبر حملوں میں ہمیشہ پیچیدہ پروگرامنگ استعمال نہیں ہوتی۔ اکثر حملہ آور کو صرف یہ ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کسی شخص کو ایسے وقت میں نشانہ بنائے جب وہ جلدی، دباؤ یا ذہنی تھکن کا شکار ہو۔
نیوز روم میں یہ صورتحال عام ہے۔ رپورٹر کسی فوری خبر پر کام کر رہا ہوتا ہے، ایڈیٹر ڈیڈ لائن پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، یا کسی بڑے واقعے کے دوران چند منٹ میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر کسی شناسا نام سے ایک فائل یا لنک آ جائے تو انسان تصدیق کیے بغیر اسے کھول سکتا ہے۔
اسی لیے رومان سیریبریانی نے ایک نہایت سادہ مگر اہم اصول پر زور دیا کہ کسی غیر معمولی فائل کو کھولنے، نامعلوم لنک پر جانے، فون پر حساس معلومات فراہم کرنے یا کسی کو تصدیقی کوڈ بتانے سے پہلے چند لمحے رک کر یہ جانچنا ضروری ہے کہ سامنے والا واقعی وہی شخص یا ادارہ ہے جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے۔
گفتگو میں یہ عملی تجویز بھی سامنے آئی کہ میڈیا ادارے ہر تکنیکی کام خود کرنے کے بجائے بعض عمومی خدمات پیشہ ور اداروں کے سپرد کر سکتے ہیں۔ ای میل انفراسٹرکچر، کلاؤڈ اسٹوریج، ڈیٹا بیک اَپ، معمول کی آئی ٹی خدمات اور بعض اقسام کی تکنیکی نگرانی ماہر کمپنیوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ایک واضح حد بھی مقرر ہونی چاہیے۔ اہم پاس ورڈز، مرکزی انتظامی اختیارات، صحافتی ذرائع کی معلومات، حساس رابطے اور متبادل نشریاتی ذرائع پر حتمی اختیار خود ادارے کے پاس رہنا چاہیے۔
اس بحث نے واضح کیا کہ جدید صحافت میں ذرائع کے تحفظ کا مطلب اب صرف یہ نہیں کہ نوٹ بک میں کسی شخص کا نام نہ لکھا جائے۔ آج ذریعے کی شناخت واٹس ایپ، ٹیلی گرام، ای میل، موبائل بیک اَپ، کلاؤڈ اکاؤنٹ، فون کی کانٹیکٹ لسٹ یا کسی ایک غیر محفوظ پاس ورڈ سے بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔
اس لیے صحافی کے لیے ڈیجیٹل تحفظ دراصل صحافتی اخلاقیات اور ذریعے کے تحفظ کا نیا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
گول میز کے اگلے مرحلے میں بحث انفرادی نیوز روم کی سلامتی سے بڑھ کر ریاستی اور قومی اطلاعاتی سلامتی تک پہنچی۔
اس موضوع پر سربیا سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی امور کی ماہر اور مرکز برائے جغرافیائی و تزویراتی مطالعات کی ڈائریکٹر ڈراگانا تریفکووچ نے تفصیل سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔
تریفکووچ نے اپنے خطاب میں مغربی میڈیا، روس سے متعلق عالمی بیانیے اور متبادل نقطۂ نظر رکھنے والے صحافیوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے صحافی اور تجزیہ کار جو غالب مغربی سیاسی بیانیے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں، انہیں نمایاں دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈونباس اور کریمیا کا دورہ کر چکی ہیں اور وہاں کے زمینی حالات پر اپنے مشاہدات کی بنیاد پر مواد شائع کیا۔ ان کے مطابق ان تحریروں کے بعد انہیں شدید تنقید اور مہم کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ انہیں ’’کریملن کا ایجنٹ‘‘ تک کہا گیا۔
تریفکووچ نے کہا کہ اس کے باوجود یہ ضروری ہے کہ صحافی ایسے ساتھیوں، پلیٹ فارمز اور قارئین تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں جو مختلف نقطۂ نظر سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق اسی سوچ کے تحت یوریشین میڈیا فورم جیسے پلیٹ فارمز کا مقصد مختلف ممالک کے صحافیوں اور ماہرین کو ایسا موقع دینا ہے جہاں وہ عالمی واقعات، روس اور دیگر ممالک کے بارے میں ایسے زاویوں پر بھی گفتگو کر سکیں جو بڑے مغربی میڈیا میں کم جگہ پاتے ہیں۔
اسی گفتگو کے دوران اشتیاق ہمدانی نے دوسرا اہم سوال اٹھایا جس نے نشست کی بحث کو براہِ راست اطلاعاتی خودمختاری کے مسئلے کی طرف موڑ دیا۔
سوال کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ موجودہ عالمی اطلاعاتی کشمکش میں کسی ملک اور اس کے میڈیا کے لیے ترجیح کیا ہونی چاہیے: اپنا نقطۂ نظر مغربی دنیا تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانا، یا پہلے اپنے معاشرے کے اندر اطلاعاتی استحکام اور قومی اطلاعاتی خودمختاری کو مضبوط بنانا؟
یہ سوال محض روس یا مغرب کے تعلقات تک محدود نہیں تھا بلکہ آج تقریباً ہر ایسے ملک کے لیے اہم ہے جو عالمی میڈیا میں اپنے بارے میں بننے والے بیانیے اور اپنے داخلی اطلاعاتی ماحول کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ڈراگانا تریفکووچ نے اس سوال کے تناظر میں کہا کہ بیرونی دنیا تک اپنا مؤقف پہنچانے کی کوشش ضرور جاری رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق مغربی ممالک میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور غالب بیانیے سے ہٹ کر حقائق تلاش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ واقعی مختلف معلومات اور حقیقت تلاش کرنا چاہتے ہیں، وہ بالآخر اسے تلاش کر لیتے ہیں۔
تاہم ان کے مؤقف میں ایک اور پہلو کو زیادہ بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کے لیے اپنے داخلی اطلاعاتی استحکام کو برقرار رکھنا اور معاشرے کو اطلاعاتی بنیادوں پر تقسیم ہونے سے بچانا انتہائی ضروری ہے۔
تریفکووچ نے اطلاعات اور پروپیگنڈا کو جدید تنازعات کا ایک اہم ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج مقابلہ صرف فوجی یا اقتصادی میدان میں نہیں ہوتا۔ اطلاعات کے ذریعے عوام کے اعتماد، قومی اداروں کے بارے میں رائے اور معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیان تعلقات پر بھی اثر ڈالا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اسی لیے قومی اطلاعاتی خودمختاری کا تصور محض سرکاری میڈیا یا ریاستی بیانیے کا نام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ معاشرے کے پاس مختلف معلومات کی جانچ، غلط معلومات کی شناخت اور بیرونی پروپیگنڈے کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو۔
اشتیاق ہمدانی کے سوال اور تریفکووچ کے جواب نے گول میز کی گفتگو کو ایک وسیع بین الاقوامی تناظر دیا۔ اس سے یہ بنیادی سوال سامنے آیا کہ صحافی کی ذمہ داری کہاں تک ہے؟ کیا اسے صرف وہ معلومات رپورٹ کرنی چاہییں جو اس کے سامنے موجود ہوں، یا اسے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس کا مواد ایک بڑی اطلاعاتی جنگ، عالمی سیاسی بیانیے اور عوامی رائے کی تشکیل کے ماحول میں کس طرح استعمال ہو سکتا ہے؟
اس بحث کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ صحافتی آزادی اور قومی اطلاعاتی سلامتی کو لازماً ایک دوسرے کی ضد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مضبوط صحافت کی بنیاد حقائق، متعدد ذرائع، تصدیق اور قارئین کو مکمل تناظر فراہم کرنا ہے۔ غلط یا غیر مصدقہ معلومات، خواہ وہ کسی بھی جانب سے آئیں، طویل مدت میں صحافت اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
نشست میں جریدے ’’پرسونا استرانی‘‘ کی بین الاقوامی صحافتی سرگرمیوں اور خصوصی پریس ٹورز کا بھی تفصیلی ذکر ہوا۔ جریدے کی جانب سے مختلف ممالک کے صحافیوں کے لیے ایسے دوروں کا انتظام کیا جاتا رہا ہے جن کا مقصد انہیں کسی واقعے یا علاقے کے بارے میں صرف خبر رساں اداروں، پریس ریلیز اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ موقع پر جا کر حالات دیکھنے کا موقع دینا ہے۔
بتایا گیا کہ اس نوعیت کے ایک سو سے زائد پریس ٹورز منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں روس کے علاوہ نیدرلینڈز، امریکا، جرمنی، پاکستان، سلوواکیہ، سربیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافی شریک ہوئے۔
ان دوروں کی منطق یہ ہے کہ ایک صحافی جب خود کسی مقام پر موجود ہوتا ہے، مقامی لوگوں سے بات کرتا ہے، حکام کا مؤقف سنتا ہے، مختلف سماجی نمائندوں سے ملتا ہے اور اپنی آنکھ سے حالات کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے پاس خبر کا وہ تناظر آتا ہے جو محض ثانوی معلومات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً تنازعات اور سیاسی کشیدگی سے متعلق رپورٹنگ میں موقع پر موجودگی کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایک ہی واقعے کے بارے میں مختلف ذرائع بالکل مختلف تصویر پیش کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ غیر ملکی صحافیوں کی شرکت صرف روس کا مؤقف دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسے صحافیوں کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ جو کچھ دیکھیں، اس کی بنیاد پر اپنی آزادانہ صحافتی رائے قائم کریں۔
یہی اصول معیاری بین الاقوامی رپورٹنگ کی بنیاد بنتا ہے کہ صحافی کسی تیار شدہ نتیجے کے ساتھ جائے بغیر مختلف فریقوں کی معلومات کا تقابل کرے اور پھر اپنے قارئین یا ناظرین کے سامنے حقیقت کا زیادہ جامع نقشہ پیش کرے۔
گول میز کے دوران مصنوعی ذہانت اور تیزی سے بدلنے والی میڈیا ٹیکنالوجی کے اثرات بھی گفتگو کے وسیع تناظر کا حصہ رہے۔ آج مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں متن، تصویر اور ویڈیو تیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں معلومات پیدا کرنے کی رفتار تو بڑھ گئی ہے لیکن اس کے ساتھ تصدیق کی ذمہ داری بھی پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی صحافی کو بڑے ڈیٹا میں معلومات تلاش کرنے، تحریر مرتب کرنے، ترجمہ کرنے، مواد کی نگرانی کرنے اور فوری طور پر مختلف ذرائع کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی صحافی کے انسانی فیصلے اور اخلاقی ذمہ داری کی مکمل جگہ نہیں لے سکتی۔
خصوصی انٹرویو اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ مصنوعی ذہانت کسی شخصیت کے بارے میں ہزاروں صفحات کا مواد چند لمحوں میں جمع کر سکتی ہے، لیکن کسی مشکل رسائی رکھنے والی شخصیت کا اعتماد حاصل کرنا، اس کے لہجے کو سمجھنا، اس کی خاموشی کے معنی جاننا، مناسب موقع پر سوال کرنا اور یہ فیصلہ کرنا کہ کسی حساس جواب کے ساتھ صحافتی طور پر کیا سلوک ہونا چاہیے، یہ اب بھی انسانی صحافت کا بنیادی حصہ ہے۔
اسی طرح سائبر سکیورٹی میں جدید ترین سافٹ ویئر موجود ہونے کے باوجود ایک صحافی کی صرف ایک غیر محتاط کلک پوری حفاظتی دیوار کو کمزور کر سکتی ہے۔ اور اطلاعاتی جنگ کے ماحول میں معلومات کی بے پناہ مقدار موجود ہونے کے باوجود یہ انسانی صحافی ہی ہے جو طے کرتا ہے کہ کون سی خبر مصدقہ ہے، کون سا دعویٰ مزید جانچ کا محتاج ہے اور کس واقعے کا کون سا پس منظر قاری کے لیے ضروری ہے۔
’’پرسونا استرانی‘‘ کی سوچی میں ہونے والی اس گول میز نشست کا سب سے نمایاں پہلو یہی تھا کہ اس نے صحافت کے بظاہر تین مختلف مسائل، خصوصی انٹرویو، ڈیجیٹل تحفظ اور اطلاعاتی خودمختاری، کو دراصل ایک ہی بنیادی قدر یعنی اعتماد سے جوڑ دیا۔
ایک مشکل رسائی رکھنے والی شخصیت صحافی سے تبھی کھل کر گفتگو کرے گی جب اسے اس پر اعتماد ہوگا۔
صحافتی ذریعہ اپنی حساس معلومات تبھی فراہم کرے گا جب اسے یقین ہوگا کہ صحافی اس کی شناخت اور معلومات کو محفوظ رکھے گا۔
ایک میڈیا ادارہ اپنے قارئین اور ناظرین کا اعتماد تبھی برقرار رکھ سکتا ہے جب وہ خبر کی تصدیق کرے، غلطی ہونے پر اسے درست کرے اور سنسنی کے مقابلے میں حقیقت کو ترجیح دے۔
اور کسی معاشرے کا اطلاعاتی استحکام بھی اسی وقت مضبوط رہ سکتا ہے جب عوام کو یہ یقین ہو کہ انہیں ملنے والی معلومات محض پروپیگنڈا نہیں بلکہ جانچ، تحقیق اور ذمہ دار صحافت کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔
سوچی کی اس نشست سے ایک اور بات بھی واضح ہوئی کہ آج صحافی کا کام پہلے کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اب رپورٹر کو صرف سوال کرنا اور خبر لکھنا نہیں آنا چاہیے؛ اسے ڈیجیٹل خطرات، سوشل میڈیا، سائبر سکیورٹی، ذرائع کے تحفظ، عالمی اطلاعاتی بیانیے اور نئی ٹیکنالوجی کے بنیادی اثرات کو بھی سمجھنا ہوگا۔
صحافی کے پاس پہلے قلم، نوٹ بک اور کیمرہ بنیادی اوزار تھے۔ آج اس کا موبائل فون، ای میل، کلاؤڈ اکاؤنٹ اور سوشل میڈیا پروفائل بھی اس کے دفتر، آرکائیو اور رابطوں کے مرکز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی سہولت اگر درست طریقے سے محفوظ نہ کی جائے تو صحافی اور اس کے ذرائع دونوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
اسی لیے صحافتی تربیت کا تصور بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ آنے والے دور کا کامیاب صحافی وہ ہوگا جو ایک اچھا انٹرویو لینے والا ہونے کے ساتھ ساتھ معلومات کی تصدیق، ڈیجیٹل تحفظ اور نئے میڈیا ماحول کو بھی سمجھتا ہو۔
اس پوری بحث میں الیزاویتا ابرامووا کا مرکزی پیغام اعتماد اور صحافتی دیانت تھا؛ سرگئی مالاخوف نے ڈیجیٹل حفاظتی نظام کی عملی کمزوریوں اور آزاد سکیورٹی آڈٹ کی ضرورت واضح کی؛ رومان سیریبریانی نے انسانی جلد بازی کو سائبر سکیورٹی کی بڑی کمزوری قرار دیا؛ جبکہ ڈراگانا تریفکووچ نے گفتگو کو انفرادی میڈیا اداروں سے آگے بڑھاتے ہوئے قومی اطلاعاتی سلامتی اور خودمختاری کے عالمی تناظر سے جوڑا۔
اسی دوران اشتیاق ہمدانی کے سوالات نے ڈیجیٹل سکیورٹی کے عملی مسئلے اور مغربی دنیا تک اطلاعات پہنچانے کے مقابلے میں داخلی اطلاعاتی خودمختاری کے سوال کو براہِ راست بحث کا حصہ بنایا، جس پر مقررین نے اپنے اپنے تجربے اور نقطۂ نظر کی روشنی میں جواب دیا۔
یہ بھی پڑھے !
سوچی میں 30ویں بین الاقوامی میڈیا فورم ’’آل رشیا-2026‘‘ کا آغاز، ایک ہزار سے زائد صحافی اور میڈیا ماہرین شریک
یوں یہ نشست محض یہ سکھانے تک محدود نہیں رہی کہ کسی مشکل رسائی رکھنے والی شخصیت سے انٹرویو کیسے لیا جائے، بلکہ اس نے صحافت کے پورے موجودہ ماحول کا ایک بڑا سوال سامنے رکھا کہ جب معلومات چند سیکنڈ میں پوری دنیا تک پہنچ سکتی ہوں، مصنوعی ذہانت مواد تخلیق کر رہی ہو، سائبر حملے صحافتی ذرائع کو خطرے میں ڈال رہے ہوں اور اطلاعات خود عالمی کشمکش کا ہتھیار بن چکی ہوں تو ذمہ دار صحافت کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟
سوچی میں ہونے والی گفتگو سے اس کا جواب نسبتاً واضح نظر آیا۔ اعتماد، دیانت داری، پیشہ ورانہ تیاری، حقائق کی تصدیق، ذریعے کا تحفظ اور شائع کیے جانے والے ہر لفظ کی ذمہ داری۔
میڈیا پلیٹ فارم بدل سکتے ہیں، خبر پہنچانے کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے، مصنوعی ذہانت صحافت کے کئی روایتی مراحل کو تبدیل کر سکتی ہے اور عالمی اطلاعاتی مقابلہ مزید سخت ہو سکتا ہے، لیکن صحافت کا بنیادی اصول شاید نہیں بدلے گا۔
صحافت بالآخر انسان سے انسان کا رشتہ ہے۔
اس رشتے میں کوئی شخصیت صحافی کو اپنی کہانی سناتی ہے، کوئی ذریعہ اسے معلومات دیتا ہے، صحافی ان معلومات کی جانچ کرتا ہے اور پھر قاری یا ناظر اس صحافی پر اعتماد کرکے خبر قبول کرتا ہے۔
اگر یہ اعتماد باقی ہے تو صحافت باقی ہے۔
اور اگر اعتماد ختم ہو جائے تو جدید ترین ٹیکنالوجی، سب سے بڑی سرخی اور لاکھوں ویوز بھی صحافت کا متبادل نہیں بن سکتے۔
یہ بھی پڑھے !
فلائی دبئی سوچی کے لیے پروازیں شروع کرے گی