ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی فوج میں گولہ بارود اور جدید ہتھیاروں کی کمی پیدا کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ اس تشویش کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے ہیں اور چند ہفتے قبل ہی اصرار کر چکے ہیں کہ امریکہ کے پاس “تقریباً لامحدود” ذخیرہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے 30 جون تک “آپریشن ایپک فیوری” پر تخمینے کے مطابق 33.4 ارب ڈالر (29 ارب یورو) خرچ ہوئے۔ اس میں سے صرف گولہ بارود پر 22.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ کانگریس کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے پیمانے نے “اسٹریٹجک انوینٹری کی کمی” پیدا کر دی اور امریکی دفاعی صنعت کی سپلائی دوبارہ بھرنے کی صلاحیت میں رکاوٹوں کو بے نقاب کیا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ جدید میزائلوں اور دفاعی انٹرسیپٹرز کے ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے میں تقریباً تین سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں فوجی سازوسامان کے نقصانات کی تفصیل بھی دی گئی، جن میں چار ایف-15 لڑاکا طیاروں کی تباہی، ایک ایف-35 کو نقصان اور سات کے سی-135 ٹینکر طیاروں کو نقصان یا تباہی شامل ہے، جن میں سے پانچ سعودی عرب میں زمین پر کھڑے ہونے کے دوران ایرانی گولہ بارود کا نشانہ بنے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز بھی تباہ ہوئے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالر (2.6 کروڑ یورو) ہے۔
رپورٹ کے جواب میں صدر ٹرمپ نے مسلسل اصرار جاری رکھا کہ فوج کے گولہ بارود کے ذخائر “تقریباً لامحدود” ہیں اور ہتھیاروں کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے۔
پیر کے روز اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ “اپنی تاریخ میں کسی بھی وقت سے زیادہ عمدہ اور اعلیٰ ہتھیار” تیار کر رہا ہے۔ پینٹاگون کا مؤقف رہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس کسی بھی تنازع سے نمٹنے کے لیے ضروری ہتھیار موجود ہیں۔
انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں کو پہنچنے والے وسیع نقصانات کی بھی تفصیل دی گئی ہے۔ کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں واقع اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور دیگر تنصیبات نقصان یا تباہی کا شکار ہوئیں۔ ان تنصیبات کی مرمت یا تعمیرِ نو کی لاگت 33.4 ارب ڈالر کے تخمینے میں شامل نہیں ہے۔ امریکی حکام نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا تمام متاثرہ تنصیبات کی تعمیرِ نو کی جائے گی اور اس کا خرچ کون برداشت کرے گا۔