ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یمن کی حوثی افواج نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے اور طیارے کے جلتے ہوئے ملبے کی ویڈیو جاری کی۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ویڈیو حوثی فضائی دفاع کے ذریعے مار گرائے گئے پہلے سعودی طیارے کا ثبوت ہوگی۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ طیارے کو یمن کے صوبہ مآرب کے اوپر “مقامی طور پر تیار کردہ سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل” سے مار گرایا گیا۔ سریع نے پھر دعویٰ کیا کہ حوثی جنگجوؤں نے سعودی ایف-15 اور یورو فائٹر ٹائفون طیاروں کی دو لہروں کو کامیابی سے پسپا کیا جو ملبے کی تلاش کے لیے روانہ کی گئی تھیں۔
سریع نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا، اور سعودی فوج نے ابھی تک طیارے کے نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ایک میزائل عملہ طیارے کو نشانہ بناتا اور فائر کرتا دکھائی دیا۔ اس کے بعد ایک میزائل طیارے سے ٹکراتا نظر آیا، جو آگ کے گولے میں زمین پر گر گیا۔ یہ واضح نہیں کہ پائلٹ جلتے ہوئے طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوا یا نہیں۔ جائے حادثہ کی فوٹیج میں حوثی جنگجو طیارے کی دم اٹھاتے دکھائی دیے، جس پر سعودی پرچم لگا ہوا تھا۔ عسکریت پسندوں نے دم کے حصے کے سامنے کھڑے ہو کر “امریکہ کو موت” اور “اسرائیل کو موت” کے نعرے لگائے۔ بدھ سے قبل حوثیوں نے 2017 میں ایک اور 2018 میں دو سعودی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی عرب نے حوثیوں کی فائرنگ سے کبھی کوئی جنگی طیارہ ضائع ہونے کی تردید کی تھی۔ سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، تاہم 2022 میں جنگ بندی کے باعث لڑائی روک دی گئی تھی۔ اس سال جولائی میں سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت نے حوثیوں کے زیر کنٹرول صنعا میں ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا، جس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔ حوثیوں کی پیش قدمی سعودی عرب کی اہم تیل برآمدات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔