یورپ میں شدید گرمی نے آلو کی قلت پیدا کر دی

Potatos Potatos

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپ میں گرمی اور خشک سالی کے باعث برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں آلو کی پیداوار میں لاکھوں ٹن کی کمی متوقع ہے، جس سے سینکڑوں ملین یورو کا نقصان ہوگا۔ یہ بات تحقیقی ادارے انرجی اینڈ کلائمیٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای سی آئی یو) نے جمعرات کو رپورٹ کی۔ ادارے کے مطابق ان پانچ ممالک میں پیداوار 3.5 ملین ٹن سے زیادہ کم ہونے کی توقع ہے، جس سے 498 ملین سے 818 ملین یورو (572 ملین سے 940 ملین ڈالر) کا نقصان ہوگا۔ ای سی آئی یو کے زمین، خوراک اور زراعت کے تجزیہ کار ٹوم لنکاسٹر نے کہا کہ آلو یورپ کی سب سے زیادہ پانی کی طلبگار فصلوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس کی فصل کا شدید متاثر ہونا ناگزیر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو یورپی خوراک کے اس بنیادی جزو کی کاشت جاری رکھنے کے لیے مستحکم موسمی حالات کی ضرورت ہے، ورنہ بڑھتے ہوئے شدید موسمی واقعات ناقابل برداشت نقصانات کا باعث بنیں گے۔ گزشتہ سال بھرپور فصل کے باعث قیمتیں گرنے کے بعد کسانوں نے پہلے ہی آلو کی کاشت کا رقبہ کم کر دیا تھا۔ جرمنی، فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں یہ کمی اوسط پیداواری صلاحیت کے حساب سے مزید 3.6 ملین ٹن پیداوار کے نقصان کے مساوی ہے۔

اس کے بعد آلو کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بیلجیم میں فری مارکیٹ قیمتیں اپریل میں صفر سے بڑھ کر 200 یورو فی ٹن سے زیادہ ہو گئیں، جبکہ جرمنی میں یہ جون کے 15 یورو فی ٹن سے بڑھ کر 240 یورو تک پہنچ گئیں۔ یورپی کمیشن کے جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے مطابق دیگر موسم گرما کی فصلوں کی پیداوار بھی پانچ سالہ اوسط سے 14 فیصد تک کم رہنے کی توقع ہے۔ یہ نقصانات یورپ کی گرم ترین گرمی کے ریکارڈ کے بعد سامنے آئے ہیں، جبکہ کسانوں کو بڑھتی لاگت اور تجارتی مسابقت کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ سال یورپی یونین کی زیادہ تر درآمدات پر عائد کی گئی امریکہ کی 15 فیصد ٹیرف نے اس دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل میں خلل کے بعد ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، جہاں سے تنازعے سے پہلے دنیا کا تقریباً ایک چوتھائی تیل گزرتا تھا۔ ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے کسانوں کے اخراجات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یورپی کسان بڑھتی لاگت، غیر ملکی مسابقت اور یورپی یونین کی زرعی فنڈنگ میں مجوزہ تبدیلیوں پر پہلے ہی متعدد بار احتجاج کر چکے ہیں۔ منگل کے روز یورپی یونین کے سرکردہ زرعی لابی گروپ کوپا-کوجیکا نے برسلز پر الزام لگایا کہ اس نے کھاد کی درآمدات پر نئے کاربن ٹیکسوں سے ہنگامی استثنیٰ ختم کر کے کسانوں پر مزید بوجھ ڈالا ہے۔