ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
واشنگٹن پوسٹ نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد پینٹاگون کی سرکاری فہرست سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے سرکاری ہلاکتوں کے ڈیٹا بیس میں پانچ فوجی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔ پینٹاگون کے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) کے مطابق 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں دشمن کارروائی اور غیر دشمن واقعات دونوں میں ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔ تاہم پانچ ذرائع نے ادارے کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے کم از کم 22 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک چھٹے ذریعے نے یہ تعداد 23 بتائی۔ ایک اہلکار کے مطابق تمام اضافی ہلاکتیں براہ راست تنازع سے منسلک نہیں تھیں، لیکن ان میں مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی اہلکار شامل تھے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ جنگی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے خطے میں تعینات تین امریکی ٹھیکیداران بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ یہ فرق جنگ کے نقصانات کو کم ظاہر کرنے کی کوشش تھی یا فوجی ہلاکتوں کی درجہ بندی کے انتظامی طریقہ کار کا نتیجہ۔ امریکی انتظامیہ کے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پہلے جولائی میں بھی زیرِ بحث آئے تھے، جب پینٹاگون نے ایک ناکام جنگ بندی کے دوران عارضی طور پر ایران جنگ کی چار ہلاکتوں کو اپنی سرکاری فہرست سے ہٹا دیا تھا — تین فوجی اردن میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں، جبکہ ایک اگلے روز عراق میں ایرانی ڈرون کے کنٹرولڈ دھماکے کے دوران ہلاک ہوا تھا۔ کانگریس کی جانچ پڑتال کے بعد پینٹاگون نے اسے ڈیٹا پروسیسنگ کی غلطی قرار دیا۔ بعد میں یہ ہلاکتیں تقریباً 207 زخمیوں کے ساتھ دوبارہ فہرست میں شامل کی گئیں، تاہم انہیں “اوورسیز کنٹیجنسی آپریشنز” کے تحت درج کیا گیا نہ کہ انتظامیہ کے ایران جنگ کے لیے مختص نام “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت۔
اس کے علاوہ پینٹاگون نے بتایا کہ فروری سے اب تک مشرق وسطیٰ میں دو مزید امریکی فوجی جنگ سے غیر متعلق مشنز کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ سارجنٹ ڈیون سیبل 31 مئی کو عراق کے اربل میں تربیتی حادثے میں ہلاک ہوئے، جبکہ میجر سورفلائی ڈیویئس 6 مارچ کو کویت میں ایک غیر واضح طبی ہنگامی صورتحال کے باعث انتقال کر گئے۔ ان دونوں کے نام ڈی سی اے ایس میں شامل نہیں، حالانکہ وہ ایسے اڈوں پر ہلاک ہوئے جو ایرانی افواج کے حملوں کی زد میں آئے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے ان تضادات سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایکس پر اس رپورٹ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے “مکمل جھوٹ” قرار دیا اور کہا کہ یہ گھٹیا اور جعلی رپورٹ ہے، اور واشنگٹن پوسٹ ایرانی سرکاری میڈیا سے بھی بدتر ہے۔