ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان میں جب بھی سیاسی بساط پر کوئی ہلچل ہوتی ہے یا کوئی جماعت طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے، تو اس کی بھاری ترین قیمت کسی سیاستدان یا حکمران کو نہیں، بلکہ اس ملک کے عام شہری اور پبلک انفراسٹرکچر کو چکانی پڑتی ہے。 دورِ جدید میں موٹرویز کسی بھی ملک کے لیے معاشی ترقی اور تیز رفتار سفر کی علامت ہوتی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ شاہراہیں سیاسی جنگ کا اکھاڑا اور انتظامی نااہلی کا سب سے بڑا ثبوت بن چکی ہیں。 حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب احتجاج کوئی بھی کرے، حکومت کسی کی بھی ہو، سب سے پہلا کلہاڑا موٹرویز پر ہی چلایا جاتا ہے。 یہ روش اس بات کی عکاس ہے کہ ہمارے مقتدر حلقوں اور سیاسی قیادت کی نظر میں عام انسان کی زندگی، اس کے وقت اور اس کے روزگار کی کوئی اوقات نہیں۔موٹرویز کی اس بندش کا سب سے ہولناک پہلو وہ انسانی المیے ہیں جو میڈیا کی بڑی بڑی سرخیوں کے نیچے کہیں دب جاتے ہیں۔ جب میلوں لمبی سڑک کو کنٹینرز لگا کر بلاک کر دیا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں صرف گاڑیاں نہیں رکتیں، بلکہ زندگی رک جاتی ہے.
ان بند سڑکوں پر وہ ایمبولینسیں گھنٹوں پھنسی رہتی ہیں جن میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے مریض موجود ہوتے ہیں، وہ خاندان خوار ہو رہے ہوتے ہیں جن کے بچے بھوک اور پیاس سے ببلاتے ہیں، اور وہ طلبہ بے بسی سے روتے ہیں جن کے امتحانات یا بیرونِ ملک جانے والی پروازیں چھوٹ جاتی ہیں。 ریاست کا بنیادی فرض عوام جان و مال کا تحفظ اور ان کی نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے، لیکن یہاں “سیکیورٹی” اور “امن و امان” کے نام پر خود ریاست شہریوں کو ایک ایسے عذاب میں دھکیل دیتی ہے جس کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ملتا。انسانی تکلیف سے ہٹ کر اگر معاشی پہلو کو دیکھا جائے تو موٹرویز کی بندش پاکستان کی دم توڑتی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے。 ایک محتاط اندازے کے مطابق، شاہراہوں کی اس طرح کی بندش سے ملک کو روزانہ اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے.
موٹروے M-1 اور M-2 صرف مسافروں کے لیے نہیں، بلکہ کارگو ٹرکوں، برآمدی سامان، اور روزمرہ کی اشیائے خورونوش کی ترسیل کا واحد تیز ترین ذریعہ ہیں。 جب سپلائی چین کئی کئی دن تک معطل رہتی ہے، تو منڈیوں میں پھل، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء سڑ جاتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے. صنعت کاروں کا خام مال فیکٹریوں تک نہیں پہنچ پاتا اور تاجر برادری کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ جاتا ہے。اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ ظلم دیہاڑی دار طبقے اور چھوٹے کاروباریوں پر ہوتا ہے。 وہ ریڑھی والے، رکشہ ڈرائیور، ڈیلیوری بوائز اور سڑک کنارے ڈھابے چلانے والے لوگ، جن کا چولہا روز کی کمائی سے جلتا ہے، ان بندشوں کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں。 تماشا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کے حقوق کا نعرہ لگا کر سڑکوں پر نکلتی ہیں، اور حکومت عوام کے تحفظ کا دعویٰ کر کے راستے بند کرتی ہے، مگر سچ یہ ہے کہ دونوں مل کر اسی غریب عوام کا گلا گھونٹ رہے ہوتے ہیں.
پاکستان میں موٹرویز کی یہ بار بار کی بندش دراصل ہمارے سیاسی اور انتظامی نظام کے دیوالیہ پن کا اشتہار ہے。 جب تک ریاست اور اپوزیشن دونوں یہ نہیں سمجھیں گے کہ پبلک پراپرٹی اور عوامی راستے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں، تب تک یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا。 وقت آ گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سنگین لاقانونیت کا نوٹس لیں اور ایک ایسا ناقابلِ لچک ضابطہ بنائیں جس کے تحت احتجاج کے دوران موٹرویز یا کسی بھی بڑی شاہراہ کو بند کرنا ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم تصور کیا جائے، تاکہ عام پاکستانی اپنے ہی ملک میں قیدی بن کر جینے پر مجبور نہ ہو.