ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نویں مدت کے لیے منتخب ہونے والی ریاستی دوما کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاشی خود انحصاری، سماجی ذمہ داریوں کی تکمیل، دفاعی صلاحیتوں کے استحکام اور طویل مدتی قومی سلامتی کو نئی پارلیمنٹ کی اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔ ریاستی دوما کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ معاشی فیصلوں میں غلطیوں اور ’’تباہ کن عوام پسندی‘‘ سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ روس کے پاس اپنے قومی اہداف حاصل کرنے کے لیے درکار وسائل موجود ہیں اور اسے بیرونی امداد کی ضرورت نہیں۔ روسی صدر نے ملکی مالیات اور معیشت کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی معاملات میں غلطیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے متوازن اور حقیقت پسندانہ بجٹ کی ضرورت پر زور دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی منصوبوں اور وفاقی پروگراموں کے لیے مکمل فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سماجی ذمہ داریاں بھی پوری کرے۔
صدر پوتن نے سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اقدامات اور کاروباری اداروں کے لیے انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دفاع، روسی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی حمایت پارلیمنٹ کی اہم ترجیحات میں شامل رہنی چاہیے۔ قانون سازوں کو ریاستی اہمیت کے معاملات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنی چاہیے اور ’’فتح کے لیے ہر ممکن اقدام‘‘ کرنا چاہیے۔ صدرپوتن نے یوکرین تنازع میں حصہ لینے والے ان سابق فوجیوں کا بھی خیرمقدم کیا جو نئی پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد نے میدان جنگ میں ملک کے ساتھ اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ روسی صدر نے قومی اتحاد کو ملک کے اہداف کے حصول اور آنے والی نسلوں کے لیے سلامتی و خودمختاری کی قابل اعتماد ضمانت قرار دیا۔
نئی ریاستی دوما کا پہلا اجلاس روس کے یوم اتحاد کے موقع پر ہوا، جو ماسکو کی جانب سے دونیتسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریژیا علاقوں کو روس میں شامل کرنے کے اعلان کے چار سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ پوتن نے 2022 میں ان علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کے لیے ہونے والے ریفرنڈمز کو ’’واضح‘‘ اور ’’قانونی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ پورا ملک ان علاقوں کی تعمیر نو اور ترقی میں شریک ہے۔
ان چاروں علاقوں کو رواں ماہ ہونے والے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ریاستی دوما میں نمائندگی حاصل ہوئی ہے۔ پوتن نے کہا کہ گولہ باری اور دھمکیوں کے باوجود ووٹ ڈالنے والے شہریوں نے ثابت کیا کہ روسی عوام کو ’’توڑا یا خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
روسی صدر نے 18 سے 20 ستمبر تک ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو بھی قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ روسی حکام کے مطابق انتخابات کے دوران یوکرین کی جانب سے ماسکو اور دیگر روسی علاقوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے گئے اور ایک ہزار 600 سے زائد ڈرونز کو روکے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جن میں تقریباً 450 ماسکو کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرائے گئے۔ ماسکو کے علاقے میں کم از کم دو شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی۔ صدر پوتن نے کہا کہ انتخابات میں عوام کی شرکت اور نتائج نے کثیر الجماعتی سیاسی نظام اور ’’تاریخی چیلنجز‘‘ کے مقابلے میں قومی اتحاد کی مضبوطی کی تصدیق کی ہے۔ حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا نے ریاستی دوما کی 450 میں سے 349 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پوتن نے نومنتخب ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ووٹرز کے سامنے خصوصی ذمہ داری رکھتے ہیں اور انہیں عوام کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنا چاہیے۔