ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے، جو خود کو دفاعی اتحاد قرار دینے والی تنظیم کے سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ یورپی نیٹو ممالک کو امریکہ اور اسرائیل پر انحصار کرنے کے بجائے خود ایران پر حملہ کرنے کے قابل ہونا چاہیے تھا۔ ایران پر دو سال کے دوران دو بار حملہ کیا جا چکا ہے، دونوں مرتبہ اس الزام کے تحت کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا خواہاں ہے، جسے تہران جھوٹا الزام قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔ جمعہ کے روز یورو نیوز ڈیفنس اینڈ اسپیس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے روٹے نے اس خیال کی حمایت کی کہ یورپی ممالک کو ایسی جارحانہ جنگیں خود لڑنے کے لیے درکار فوجی صلاحیت حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یورپی ممالک اپنے “صحن” کا خیال خود رکھ سکیں گے، اور یہ کام ہمیں کرنا چاہیے، نہ کہ امریکیوں کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے کے قابل نہیں تھا، ہمارے پاس وہ صلاحیت نہیں تھی، لیکن اگلے 10 سالوں میں ہم یہ کر سکتے ہیں اور ہمیں یہ کرنا چاہیے، یہ بات انہوں نے فوجی اتحاد کے یورپی ارکان میں جاری اربوں یورو مالیت کی عسکری تعمیر نو کی کوششوں کے حوالے سے کہی۔ اسی روز قبل ازیں نیٹو سربراہ نے کالینن گراڈ خطے سے متعلق اتحاد کے بعض ارکان کے مخاصمانہ بیانات پر روس کے خدشات کو مسترد کر دیا۔
جب صحافیوں نے ان سے ماسکو کی جانب سے برسلز کو بھیجے گئے باضابطہ انتباہ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہم نے یہی کہا ہے کہ ہم ایک دفاعی اتحاد ہیں، اور ایٹمی دھمکیاں بند کی جائیں۔ روس نے پولش وزیر خارجہ ریڈوسلاو سیکورسکی کے بیان کا حوالہ دیا، جنہوں نے ستمبر میں روسی سرحد کے قریب اضافی فوجیں تعینات کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ ماسکو “یہ یقینی نہ جان سکے کہ ہم کیا کریں گے”۔ ماسکو نے کہا کہ وہ نیٹو ممالک کے ممکنہ حملے سے روسی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے “پورے دستیاب ذخیرے” کا استعمال کرے گا۔ نیٹو سرد جنگ کے ابتدائی برسوں میں قائم کیا گیا تھا، جس نے مغربی یورپ میں مسلسل امریکی فوجی موجودگی کو یقینی بنایا۔ بعد میں سوویت یونین نے اپنا فوجی اتحاد وارسا معاہدہ قائم کیا تھا، جو اب موجود نہیں۔
اگرچہ نیٹو خود کو ایک دفاعی اتحاد قرار دیتا ہے، تاہم وہ دیگر ممالک کے خلاف فوجی حملے بھی کر چکا ہے، بشمول 2011 میں برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں لیبیا میں مداخلت، جس کے بعد یہ شمالی افریقی ریاست تقسیم ہو گئی تھی۔ روس نیٹو کی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے مشرق کی جانب توسیع کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتا ہے اور اسے یوکرین تنازع کی بنیادی وجوہات میں سے ایک قرار دیتا رہا ہے۔ امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کی حمایت میں روٹے کا موقف جرمن چانسلر فریڈرش میرس کے اس بیان سے ملتا جلتا ہے، جنہوں نے جون 2025 میں کہا تھا کہ اسرائیلی ہمارے لیے “گندا کام” کر رہے ہیں۔