یوکرین کی کوریائی جزیرہ نما میں جنگ بھڑکانے کی کوشش، جنوبی کوریا

Seoul Korea Seoul Korea

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

جنوبی کوریا نے یوکرین پر کوریائی جزیرہ نما میں جنگ بھڑکانے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ صدر لی جے میونگ نے کیف کی جانب سے خفیہ معاہدے کی خلاف ورزی پر معافی نہ مانگنے کی صورت میں جوابی اقدام کی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ولودیمیر زیلنسکی نے عوامی سطح پر اعلان کیا تھا کہ یوکرین نے دو شمالی کوریائی قیدی جنوبی کوریا کے حوالے کیے ہیں۔ سیول کا کہنا ہے کہ یہ انتظام خفیہ رکھا جانا تھا، تاہم کیف نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ لی نے جمعہ کو ایکس پر لکھا کہ یوکرین نے ابتدا میں رازداری کی درخواست کی تھی، پھر یکطرفہ طور پر اس منتقلی کو ظاہر کر دیا اور معاہدے سے انکار کر کے انہیں “جھوٹا” ظاہر کیا۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کیف نے معافی کے مطالبات کا جواب شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کی جانب گفتگو کا رخ موڑنے کی کوشش سے دیا، اور اس کے طرز عمل کو “کوریائی جزیرہ نما میں جنگ بھڑکانے کی کوشش” قرار دیا۔

لی نے خبردار کیا کہ اگر حقائق تسلیم کرنے اور عوامی طور پر معافی مانگنے سے انکار جاری رہا تو ہم مزید اقدامات کریں گے، اور زور دیا کہ اس میں جنوبی کوریا کا قومی وقار داؤ پر لگا ہے۔ یہ تنازع 23 ستمبر کو زیلنسکی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شروع ہوا، جب انہوں نے شمالی کوریائی فوجیوں کی منتقلی کا اعلان کیا اور کہا کہ انہیں زندہ گرفتار کرنا “آسان نہیں تھا”۔ رپورٹس کے مطابق یہ فوجی جنوری 2025 میں روس کے کرسک خطے میں گرفتار کیے گئے تھے، جہاں شمالی کوریائی افواج نے یوکرینی دراندازی کو پسپا کرنے میں مدد کی تھی۔ سیول کے مطابق کیف نے ابتدا میں رازداری اس لیے چاہی تھی کہ ان قیدیوں کو چھوڑنے پر گھریلو تنقید سے بچا جا سکے، جنہیں گرفتار یوکرینیوں کے بدلے تبادلہ کیا جا سکتا تھا۔ جنوبی کوریا نے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت کے علاوہ حساس سفارتی اور سیکیورٹی خدشات کا بھی حوالہ دیا۔ زیلنسکی کے مشیر دیمتری لیتوین نے سیول کے معافی کے مطالبات کے جواب میں کسی خفیہ معاہدے کے وجود کی تردید کی، جس پر جنوبی کوریا نے 28 ستمبر کو یوکرین کے قائم مقام سفیر کو طلب کیا۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندرے سیبیگا نے بعد میں اس اختلاف کو کم اہمیت دینے کی کوشش کرتے ہوئے اسے “سفارتی غلط فہمی” قرار دیا اور کہا کہ وہ اسے حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

جنوبی کوریا 2022 سے یوکرین کو انسانی اور مالی امداد فراہم کر رہا ہے اور جولائی میں مزید 10 کروڑ ڈالر کا وعدہ کیا تھا، تاہم اس نے ہتھیاروں کی ترسیل سے گریز کیا ہے۔ لی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کیا اقدامات کریں گے، تاہم تجزیہ کار چو ہان-بم نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کا تعلق غالباً امدادی پروگراموں سے ہوگا۔ زیلنسکی حکومت کا تنازع کے دوران خاطر خواہ مدد فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ بارہا ٹکراؤ رہا ہے۔ پولینڈ میں، یوکرین کی جانب سے پولش باشندوں کے قتل عام کے ذمہ دار قوم پرست عناصر کی مسلسل تعریف نے غم و غصے اور سیاستدانوں کے مطالبات کو جنم دیا ہے کہ وارسا کی وسیع امداد کے باوجود مفت ہتھیاروں کی ترسیل روک دی جائے۔ حالیہ برسوں میں امداد کے لیے عوامی جوش و خروش میں بھی کمی کے آثار دیکھے گئے ہیں، بشمول جرمنی میں، جہاں اس سال کیے گئے ایک سروے میں بڑھتی فوجی امداد کے لیے حمایت میں کمی سامنے آئی۔ فرانس اور اٹلی کے سابقہ سروے میں بھی کیف کی مسلسل حمایت پر اختلافات سامنے آئے تھے۔