ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سابق سری لنکن کرکٹ کپتان سنتھ جے سوریا نے سوشل میڈیا پر سعودی عرب کی حکومت سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سری لنکن شہری سیواراسا انوجن کی سزائے موت معاف کرنے کی اپیل کی ہے۔ سیواراسا انوجن ۲۴ سالہ سری لنکن ہندو انجینئر اور تارکِ وطن ملازم ہیں۔ انہیں فیس بک پر کی گئی ایک مبینہ توہین آمیز پوسٹ پر سعودی عرب کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔ انوجن نے غصے میں آ کر تمل زبان میں تبصرہ کیا تھا، جسے انہوں نے فوری طور پر ڈیلیٹ کر کے معافی کی ویڈیو بھی جاری کر دی تھی۔ تاہم اس کا اسکرین شاٹ ان کے آجر اور سعودی حکام تک پہنچ گیا۔ ابتدائی طور پر انہیں پانچ سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن پبلک پراسیکیوٹر کی اپیل پر عدالت نے شریعت قانون کے تحت اسے سزائے موت میں بدل دیا۔
سنتھ جے سوریا نے اپنے پیغام میں سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان اور وزارت خارجہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا: ”بطور سری لنکن، ہم اپنے مذہب یا نسل سے بالاتر ہو کر ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم مملکتِ سعودی عرب سے عاجزانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ انسانی بنیادوں پر ہمارے ہم وطن سیواراسا انوجن کو معافی دینے پر غور کرے۔ سری لنکن حکومت اور وکلاء کی ایک ٹیم اس وقت اس فیصلے کے خلاف سعودی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے اور سفارتی ذرائع سے اس سزا کو ختم کروانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔