جنگ بندی کے بدلے منجمد اثاثوں کی بحالی: امریکہ کی روس کو بڑی پیشکش

Putin and Trump Putin and Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے روس کو توانائی تنصیبات یا بحری کارروائیوں پر محیط محدود جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے تین بڑی اقتصادی ترغیبات پیش کی ہیں۔ ان تجاویز میں شامل ہیں: روس کے منجمد خودمختار اثاثوں کے اربوں ڈالر جاری کرنا، جس سے ممکنہ طور پر 100 ارب ڈالر تک پر مشتمل پرانا منصوبہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؛ روسی تیل کی بڑی کمپنی لیوکوئل کے حصے مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں کو فروخت کرنا، جن میں سے بعض کے امریکی مذاکرات کاروں سے کاروباری روابط ہیں؛ اور بیلاروس کو پوٹاش کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینا، جس سے بیلاروس کو بھی بھاری رقم حاصل ہوگی۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے ان تجاویز کو دوبارہ زندہ کیا ہے، جبکہ منجمد اثاثے ممکنہ طور پر جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد کے بجائے ابتدائی ترغیب کے طور پر جاری کیے جا سکتے ہیں۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ کے ایلچیوں نے 5 ستمبر کو کریملن میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی، جس میں یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ لیوکوئل کے بیرون ملک اثاثوں کی فروخت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ معاملہ خود پوتن نے اٹھایا تھا۔ لیوکوئل پر امریکی پابندیاں گزشتہ سال خزاں میں عائد کی گئی تھیں، جس کے بعد کمپنی نے اپنے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے بیرون ملک اثاثے فروخت کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ان اثاثوں کے خریدار سرمایہ کار گروپ میں چیلسی کے سابق شریک مالک ٹوڈ بوہلی، متحدہ عرب امارات کے صدر کے بھائی شیخ طحنون، اور قطر کا الخیاط خاندان شامل ہیں، جن سب کے ٹرمپ اور وٹکاف خاندان سے تعلقات ہیں۔ تاہم نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کشنر یا وٹکاف کو اس معاہدے سے ذاتی طور پر فائدہ ہوگا۔ امریکی منظوری سے ان اثاثوں پر پابندیاں ہٹ جائیں گی، جس سے ان کی قدر میں فوری اضافہ ہوگا۔