روس کو سمجھنے کے لیے روس آنا ضروری ہے: سید اشتیاق ہمدانی کا بین الاقوامی کیتھرین فورم سے خطاب

Ishtiaq Hamdani Ishtiaq Hamdani

ماسکو (صدائے روس)

روسی دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ تیسرے بین الاقوامی کیتھرین فورم کے دوران معروف پاکستانی صحافی اور صدائے روس کے چیف ایڈیٹر سید اشتیاق ہمدانی نے بطور مہمان مقرر خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کا حقیقی تشخص صرف سیاسی خبروں، بین الاقوامی تنازعات اور حکومتی بیانات سے نہیں بنتا، بلکہ اس ملک کے عوام، ثقافت، روایات، انسانی کہانیوں اور روزمرہ زندگی سے تشکیل پاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کے بارے میں عالمی سطح پر ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور جامع تصور پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحافت میں سیاسی اختلافات اور تنازعات کے ساتھ ساتھ روسی معاشرے کی ثقافتی، تعلیمی، سائنسی اور انسانی جہتوں کو بھی مناسب جگہ دی جائے۔

بین الاقوامی فورم کے خصوصی سیشن “روس کا میڈیا امیج” سے خطاب کرتے ہوئے سید اشتیاق ہمدانی نے روس میں رہائش اور طویل صحافتی تجربے کی روشنی میں عالمی ذرائع ابلاغ کے کردار، معلوماتی خودمختاری، بین الثقافتی مکالمے اور بین الاقوامی اعتماد سازی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے فورم کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارم مختلف ممالک، ثقافتوں اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے خیالات سننے اور باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

روس کا حقیقی چہرہ صرف سیاسی خبروں تک محدود نہیں

سید اشتیاق ہمدانی نے کہا کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں اور کئی برسوں سے روس میں مقیم ہیں۔ اس دوران انہیں روسی معاشرے، اس کے عوام، ثقافت اور بین الاقوامی تعلقات کو قریب سے سمجھنے اور ان کے بارے میں پاکستانی اور اردو بولنے والے ناظرین کو آگاہ کرنے کا موقع ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں یہ اہم سبق دیا ہے کہ کسی بھی ملک کی تصویر صرف اخبارات کی سرخیوں یا ٹیلی ویژن کی خبروں سے تشکیل نہیں پاتی، بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں، ان کی کامیابیوں، مشکلات اور انسانی تعلقات سے بنتی ہے۔

ان کے مطابق عالمی ذرائع ابلاغ میں روس کا ذکر اکثر سیاسی تنازعات، اقتصادی پابندیوں، جنگ، عالمی سلامتی اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ موضوعات بھی صحافت کا اہم حصہ ہیں اور ان پر بات کرنا ضروری ہے، تاہم اگر کسی ملک کی شناخت صرف انہی موضوعات تک محدود کر دی جائے تو دنیا اس کے معاشرے کی مکمل تصویر نہیں دیکھ سکتی۔

سید اشتیاق ہمدانی نے کہا کہ روس مختلف قومیتوں، مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا ملک ہے۔ یہاں ہر شہر اور ہر خطے کی اپنی تاریخ، روایات اور شناخت موجود ہے۔ روسی شہروں میں رہنے والے اساتذہ، طلبہ، فنکار، سائنس دان، مزدور اور عام شہری بھی اپنے خواب رکھتے ہیں اور انہیں بھی وہی انسانی مسائل درپیش ہوتے ہیں جن کا سامنا دنیا کے دوسرے معاشروں کو کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی میڈیا کو روسی معاشرے کے انہی انسانی پہلوؤں کو زیادہ نمایاں کرنا چاہیے تاکہ دوسرے ممالک کے عوام روس کو صرف سیاسی خبروں کے ذریعے نہیں بلکہ ایک زندہ اور متنوع معاشرے کے طور پر جان سکیں۔

فٹبال ورلڈ کپ 2018 نے دنیا کو روس کا ایک مختلف چہرہ دکھایا

اپنے خطاب میں سید اشتیاق ہمدانی نے روس میں منعقد ہونے والے فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2018 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس عالمی مقابلے نے روس کے بارے میں دنیا کے تصورات کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے انعقاد سے قبل بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور دہشت گردی کے خدشات سمیت مختلف معاملات زیر بحث تھے، لیکن روس نے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی کامیاب میزبانی کی۔

ان کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے شائقین نے روس کے مختلف شہروں کا سفر کیا، مقامی شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور روسی ثقافت، مہمان نوازی اور روزمرہ زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ اس عالمی مقابلے کے انعقاد کے پیچھے لاکھوں شائقین کی سلامتی، ٹرانسپورٹ، رہائش اور انتظامی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ایک وسیع کوشش موجود تھی۔

ان کے بقول ورلڈ کپ نے ثابت کیا کہ کسی بھی ملک کے بارے میں قائم تصورات کو تبدیل کرنے میں براہ راست انسانی رابطے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب لوگ خود روس آتے ہیں، یہاں کے شہریوں سے ملتے ہیں اور یہاں کی زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں تو وہ اپنی رائے دوسروں کی بیان کردہ معلومات کے بجائے ذاتی تجربے کی بنیاد پر قائم کر سکتے ہیں۔

کورونا وبا کے دوران اٹلی کے لیے روسی امداد کا حوالہ

سید اشتیاق ہمدانی نے عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران روس کی جانب سے اٹلی کو فراہم کی جانے والی طبی امداد کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی صحافت میں ایسے واقعات کو محض سیاسی یا سفارتی سرگرمیوں کے طور پر پیش کرنے کے بجائے انسانی ہمدردی، باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔

ان کے مطابق صحافیوں کو یہ جاننے اور بتانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ امداد سے کن لوگوں کو فائدہ پہنچا، مختلف ممالک کے ماہرین نے کس طرح تعاون کیا اور ان اقدامات کے انسانی اثرات کیا تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب خبر میں انسانی پہلو شامل کیا جاتا ہے تو وہ محض ایک سرکاری بیان نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی کہانی بن جاتی ہے جو مختلف قوموں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے سکتی ہے۔

پاکستانی اور جنوبی ایشیائی ناظرین کے لیے روسی خبروں کا صرف ترجمہ کافی نہیں

صدائے روس کے چیف ایڈیٹر نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی صحافت کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان، جنوبی ایشیا اور اردو بولنے والے دیگر ممالک کے ناظرین کے لیے روسی خبروں کا صرف ترجمہ کرنا کافی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار صحافی کو اپنے ناظرین کی ثقافت، دلچسپیوں اور معاشرتی پس منظر کو بھی سمجھنا چاہیے۔

ان کے مطابق ضروری ہے کہ روس میں پیش آنے والے واقعات کو سادہ اور قابل فہم زبان میں پیش کیا جائے اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ متعلقہ واقعہ پاکستانی یا جنوبی ایشیائی ناظرین کے لیے کیوں اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی صحافت صرف معلومات منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ صحافی اور اس کے ناظرین کے درمیان مسلسل مکالمے کا ذریعہ بھی ہے۔

بین الاقوامی صحافتی تعاون بڑھانے کے لیے تین اہم تجاویز

سید اشتیاق ہمدانی نے فورم کے شرکا کے سامنے روس کے عالمی میڈیا امیج کو بہتر طور پر سمجھنے اور پیش کرنے کے لیے تین عملی تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے پہلی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ روس کے مختلف خطوں اور عام شہریوں کے بارے میں زیادہ صحافتی مواد تیار کیا جانا چاہیے۔ روس کی شناخت صرف ماسکو تک محدود نہیں، بلکہ اس کے دوسرے شہروں، تعلیمی اداروں، ثقافتی مراکز اور مقامی معاشروں کو بھی عالمی سطح پر متعارف کروانا ضروری ہے۔

دوسری تجویز میں انہوں نے روسی اور غیر ملکی صحافیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں، نوجوان صحافیوں کے تبادلہ پروگراموں، مشترکہ انٹرویوز اور مختلف زبانوں میں خبروں اور دستاویزی پروگراموں کی تیاری پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات مختلف معاشروں میں موجود غلط فہمیوں اور دقیانوسی تصورات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے درمیان پیشہ ورانہ اعتماد پیدا کر سکتے ہیں۔

تیسری تجویز میں انہوں نے صحافتی ساکھ، حقائق کی تصدیق اور آزادانہ سوالات کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کا مثبت تشخص اسی وقت قابل اعتماد بنتا ہے جب صحافی کو سوال کرنے، معلومات کی تصدیق کرنے اور معاشرے میں موجود مسائل پر بات کرنے کا موقع حاصل ہو۔

صرف تعریف یا تنقید کرنا متوازن صحافت نہیں

سید اشتیاق ہمدانی نے کہا کہ اچھی صحافت کا بنیادی اصول توازن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی ملک کے بارے میں مسلسل منفی خبریں پیش کرنا بھی درست صحافتی طرزعمل نہیں، اور صرف مثبت پہلوؤں کو سامنے لانا بھی حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا صحافت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف تنقید کریں، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ہم صرف تعریف کرتے رہیں۔ ہمیں کامیابیوں اور مسائل دونوں کو دیانت داری کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحافی کی آزادی کے ساتھ اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔

ان کے مطابق معلوماتی خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ ہر معاشرے کو اپنی تاریخ، زبان، ثقافت اور شناخت کے بارے میں خود دنیا کو آگاہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، تاہم اس حق کا استعمال حقائق اور قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے۔

غیر ملکی روس کو حقیقی معنوں میں کیسے جان سکتے ہیں؟ منتظم کے سوال پر دلچسپ جواب

فورم میں خطاب کے بعد منتظم کی جانب سے سید اشتیاق ہمدانی سے سوال کیا گیا کہ غیر ملکی شہری روس کو بہتر انداز میں کیسے جان سکتے ہیں اور وہ روس کی ثقافت، روایات اور حقیقی زندگی سے کس طرح واقف ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں پاکستانی صحافی نے کہا کہ ان کے نزدیک روس کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان خود روس کا سفر کرے۔

انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ روس کو جاننے کے لیے روس آنا چاہیے، کیونکہ یہاں کی جو روح، جو فضا اور جو احساس ہے، اسے دنیا کے کسی دوسرے مقام پر اسی طرح محسوس کرنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کے بارے میں کتابوں، اخبارات، ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات ضرور حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن اس ملک کی اصل فضا، لوگوں کے رویوں اور ثقافتی زندگی کو سمجھنے کے لیے ذاتی مشاہدہ نہایت اہم ہوتا ہے۔

ان کے مطابق روس میں آ کر مختلف شہروں کا دورہ کرنا، عام لوگوں سے ملاقاتیں کرنا اور مقامی ثقافت کو قریب سے دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جو کسی بھی غیر ملکی کو روس کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگر روس نہیں آ سکتے تو اپنے ملک میں رشین ہاؤس ضرور جائیں

سید اشتیاق ہمدانی نے سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہر شخص کے لیے روس کا سفر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ویزا، سفری اخراجات، فاصلے اور دیگر عملی مشکلات بعض اوقات لوگوں کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے لیے روسی ثقافت سے متعارف ہونے کا ایک بہترین ذریعہ ان کے اپنے ممالک میں قائم رشین ہاؤس ہیں۔

انہوں نے غیر ملکیوں کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں روس آنے کا موقع نہیں ملتا تو وہ اپنے ملک میں موجود رشین ہاؤس کا دورہ کریں اور وہاں منعقد ہونے والی ثقافتی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت کریں۔

ان کے بقول رشین ہاؤس مختلف ممالک کے عوام کو روسی زبان، موسیقی، ادب، روایات اور ثقافتی ورثے سے متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں رشین ہاؤس کراچی کی خدمات کو زبردست خراج تحسین

منتظم کے سوال کے جواب میں سید اشتیاق ہمدانی نے خصوصی طور پر پاکستان کے شہر کراچی میں قائم رشین ہاؤس کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور اس کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ وہ خود روس میں مقیم ہیں، تاہم پاکستان میں ہونے والی روسی ثقافتی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال قبل انہیں کراچی جانے کا موقع ملا تھا اور وہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی رشین ہاؤس کراچی کی سرگرمیوں سے باخبر رہتے ہیں۔

ان کے مطابق کراچی میں رشین ہاؤس کی جانب سے بڑی تعداد میں مختلف ثقافتی اور تعلیمی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے پاکستانی شہریوں کو روسی زبان، موسیقی، روایات اور ثقافتی ورثے سے واقف ہونے کے مواقع ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والا ملک ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں بہت سے لوگ روسی گیتوں اور موسیقی سے واقف ہیں۔

سید اشتیاق ہمدانی نے کہا: “میں پاکستان کی مثال دینا چاہوں گا۔ میں خود اس وقت روس میں ہوں، لیکن رشین ہاؤس کراچی کی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر دیکھتا رہتا ہوں۔ وہاں بہت سے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے لوگ روسی گیتوں کو جانتے ہیں۔ یہ سب رشین ہاؤس کی ثقافتی سرگرمیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں روسی ثقافت کے فروغ کے لیے رشین ہاؤس کی کوششیں احترام اور تعریف کی مستحق ہیں۔

ان کے مطابق اس نوعیت کے ثقافتی ادارے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط، باہمی دلچسپی اور ثقافتی مکالمے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور موسیقی، ادب، زبان اور انسانی رابطوں کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔

**میڈیا کو قوموں کے درمیان پل بننا چاہیے**

اپنے خطاب کے اختتام پر سید اشتیاق ہمدانی نے عالمی صحافتی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں تعمیری مکالمے، حقائق کی درست ترجمانی اور مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا مختلف قوموں اور معاشروں کے درمیان ایک مضبوط پل بن سکتا ہے، لیکن یہ پل محض سیاسی نعروں، یک طرفہ بیانیوں یا مثبت تشہیر کی بنیاد پر تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق حقیقی اعتماد کے لیے سچائی، باہمی احترام، معلومات کی درستگی اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سننے کی صلاحیت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: “میڈیا انسانوں اور ممالک کے درمیان پل بن سکتا ہے، لیکن ایک مضبوط پل نعروں سے نہیں بنتا، بلکہ سچائی، احترام اور انسانی مکالمے سے تعمیر ہوتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ صحافت کا اصل مقصد صرف ایک ملک کی خبریں دوسرے ملک تک پہنچانا نہیں، بلکہ مختلف معاشروں کے عوام کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب صحافت حقائق پر مبنی ہو، معاشرتی تعصبات سے بالاتر ہو اور مختلف پہلوؤں کو دیانت داری کے ساتھ پیش کرے تو وہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کے بجائے قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

سید اشتیاق ہمدانی نے اپنے خطاب کا اختتام اس پیغام کے ساتھ کیا کہ اعتماد محض اعلانات اور مثبت خبروں سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اسے دیانت داری، کھلے پن، حقائق کے احترام اور مسلسل مکالمے کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی صحافت صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اعتماد پیدا کرتی ہے، اور یہی اعتماد قوموں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کی پہلی سیڑھی ہے۔