سوڈان میں یوکرین کو دیا گیا امریکی اسلحہ برآمد، روس کا دعویٰ

African Terrorist African Terrorist

ماسکو (صداۓ روس)

روس کے ایک سینئر سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی ذخائر سے یوکرین کو فراہم کیے گئے ہتھیار سوڈان کی نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے سے برآمد ہوئے ہیں۔ ویانا میں فوجی سلامتی اور اسلحے کے کنٹرول سے متعلق مذاکرات میں روسی وفد کی سربراہ یولیا ژدانووا نے یہ بات بدھ کو یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے فورم فار سکیورٹی کو آپریشن کے اجلاس میں کہی۔

روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق ژدانووا نے بتایا کہ سوڈانی فوج نے بارہ کے قریب ایک کارروائی کے دوران ایم کے 19 خودکار گرینیڈ لانچر، ایم 72 ٹینک شکن ہتھیار اور سویڈن کے تیار کردہ اے ٹی 4 لانچر برآمد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں پر موجود نشانات کے ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا کہ یہ دسمبر 2024 میں امریکی فوجی ذخائر سے یوکرینی مسلح افواج کو عطیہ کیے گئے تھے۔

سوڈان کی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان اپریل 2023 سے جنگ جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ شہری بمباری، بھوک اور وسیع پیمانے پر زیادتیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس جون میں سوڈانی وزارت خارجہ کے اہلکار محمد السر نے آر ٹی کو بتایا تھا کہ یوکرین انتہائی کم قیمت پر نیم فوجی دستوں کو ڈرون فراہم کر رہا ہے اور سوڈانی انفراسٹرکچر پر حملوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں ان کی مدد بھی کر رہا ہے۔

ماسکو بارہا کہہ چکا ہے کہ کیف کو دیے گئے مغربی ہتھیار بلیک مارکیٹ کے ذریعے افریقہ کے مسلح گروہوں تک پہنچ رہے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا 2022 میں ہی خبردار کر چکی تھیں کہ اسٹنگر میزائل، جیولن ٹینک شکن نظام اور گرینیڈ لانچر غیر قانونی تجارتی نیٹ ورکس کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل سکتے ہیں۔

فروری میں اقوام متحدہ میں روس کے مندوب واسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کیف پر ڈرون سمیت اسلحہ براہ راست فراہم کرنے اور ساحل کے خطے میں عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کا الزام بھی لگایا۔ ژدانووا اس سے قبل یوکرین میں بدعنوانی اور مغربی فوجی سازوسامان کی نگرانی میں ناکامی کو افریقہ، لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد اور مجرم گروہوں تک ہتھیاروں کی رسائی کا سبب قرار دے چکی ہیں۔

مالی، نائجر اور برکینا فاسو نے اگست 2024 میں مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا اور یوکرین پر بین الاقوامی دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا۔ یہ اقدام تنزاؤاتین کے قریب مالی کی فوج پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد کیا گیا۔ یوکرینی ملٹری انٹیلی جنس کے ترجمان آندری یوسوف کے اس بیان کے بعد کہ باغیوں کو حملے کے لیے معلومات فراہم کی گئیں، مالی نے کیف سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مالی کے وزیر خارجہ عبداللہ دیوپ نے ان الزامات کو دہراتے ہوئے کہا کہ یوکرین ایسے مسلح گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو ان کے ملک کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے 25 اپریل اور 4 جولائی کو مالی بھر میں ہونے والے مربوط حملوں کو جہادیوں اور علیحدگی پسند باغیوں کے درمیان تعاون کا ثبوت قرار دیا۔ گزشتہ ہفتے اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ طوارق قیادت والے علیحدگی پسند اتحاد ازواد لبریشن فرنٹ (ایف ایل اے) کے ذرائع نے، جو مالی کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے، یوکرینی تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس میں ڈرون چلانے کی تربیت بھی شامل ہے۔