ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ نے کیوبا کے سابق رہنما راؤل کاسترو کے خلاف امریکا میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ میامی کے ایک جج کی جانب سے کیوبا کی سیاسی تاریخ کی ممتاز شخصیت راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے اور اس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔
وزارت نے نشاندہی کی کہ 26 جولائی 1996 کو منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1067 نے فروری 1996 کے ان واقعات کے بارے میں سیاسی اور قانونی جائزے پیش کیے تھے جن کی ذمہ داری امریکا ذاتی طور پر راؤل کاسترو پر ڈالتا ہے۔ بیان کے مطابق قرارداد میں کسی کو بھی ذاتی طور پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا، جس کا عملی مطلب یہ ہے کہ امریکا سمیت سلامتی کونسل اس بات پر متفق تھی کہ اس پہلو سے معاملہ نمٹ چکا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق 30 سال سے زائد عرصے بعد بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سامنے لانا میامی کی کیوبا مخالف لابی کے انتقام کے سوا کچھ نہیں لگتا، جو راؤل کاسترو سے حساب چکانے کی خواہاں ہے، جو جون میں 95 برس کے ہو گئے ہیں۔
روسی بیان میں خبردار کیا گیا کہ جزیرہ آزادی کے گرد کشیدگی میں مزید اضافہ، جو اس وقت بے مثال تجارتی، معاشی، مالیاتی اور توانائی کی ناکہ بندی کے باعث انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، پورے لاطینی امریکا اور کیریبین خطے میں صورتحال کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق ممکنہ سماجی بے چینی کیوبا کے شہریوں کی ہمسایہ ممالک کی طرف بڑے پیمانے پر ہجرت کا سبب بن سکتی ہے اور ان ممالک کے لیے سماجی بحران پیدا کر سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس عدالتی فیصلے کو محض چند افراد کے جذبات کا اظہار سمجھا جا سکتا تھا، اگر رواں سال کے اوائل میں وینزویلا میں پیش آنے والے واقعات نہ ہوتے، جہاں ملک کے رہنما کو بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اغوا کیا گیا۔
روس نے کیوبا کی حکومت کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ برادر ملک کے ساتھ دوستی، باہمی تعاون، امداد اور ہمہ جہتی روابط کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔ وزارت نے یقین ظاہر کیا کہ ناقابل شکست کیوبا کے عوام اور قیادت مغربی بدخواہوں کے ایک اور حملے کا مناسب جواب دیں گے۔ روسی بیان میں روس کے دوست اور رفیق راؤل کاسترو کی اچھی صحت اور اس جرأت، بہادری اور استقامت کے برقرار رہنے کی تمنا بھی کی گئی جو ہمیشہ ان کا خاصہ رہی ہے۔
پیر کو امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک عدالت نے 95 سالہ سابق کیوبائی رہنما راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ مئی میں امریکی حکام نے کیوبا کے انقلاب کے رہنماؤں میں شامل آرمی جنرل راؤل کاسترو پر فرد جرم عائد کی تھی، جس میں ان پر قتل کے چار الزامات، طیارہ تباہ کرنے کے دو الزامات اور امریکی شہریوں کے قتل کی سازش کا الزام شامل ہے۔ اس مقدمے میں پانچ دیگر افراد بھی نامزد ہیں۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ان الزامات کا تعلق 1996 کے اس واقعے سے ہو سکتا ہے جب کیوبا کی فضائیہ نے میامی میں قائم کیوبائی جلاوطنوں کی تنظیم برادرز ٹو دی ریسکیو کے دو طیارے مار گرائے تھے۔ نیٹ ورک نے یہ بھی بتایا کہ فلوریڈا کے استغاثہ نے 2026 کے اوائل میں اس مقدمے کی تحقیقات دوبارہ کھولی تھیں۔