ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے آن لائن یہود مخالف مہم میں روس کے ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو ان دعوؤں پر حیران ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے سوال پر وزارت کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم کی جانب سے اپنے ملک پر ایسے بے بنیاد الزامات حیران کن ہیں، اور اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جس کے ساتھ روس کی مشترکہ تاریخ بہت گہری ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ روس پر یہود مخالف مہم کا الزام لگانے کی کوششیں مضحکہ خیز دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ اسرائیل کو بھی معلوم ہے اور وہ بارہا تسلیم کر چکا ہے کہ روس میں بین النسلی امن و ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی پالیسی کے باعث یہود دشمنی کے واقعات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔
نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں الزام لگایا تھا کہ روس ایران کی مدد کر رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے بوٹ نیٹ ورکس چلا رہا ہے جو اسرائیل اور دنیا بھر کے یہودیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ روسی مفکر الیگزینڈر دوگن پر بھی مغرب میں یہود مخالف جذبات پھیلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ نیتن یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل روسی حکام کے ساتھ اسرائیل مخالف مہمات کا معاملہ اٹھاتا رہتا ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر خود پوتن سے بات کرتے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔