ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کے ایک میوزیم نے قدیم مصری ممیوں کو عوامی نمائش سے ہٹا دیا ہے، جس کی وجہ مرحومین کی “رضامندی” کا نہ ہونا بتائی گئی ہے، اور اس فیصلے پر حد سے زیادہ سیاسی درستی کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں واقع کیلون گرو آرٹ گیلری اینڈ میوزیم ملک کے مقبول ترین ثقافتی مقامات میں سے ایک ہے، جہاں سالانہ 13 لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں۔ یہاں مصری نوادرات اور ممی شدہ باقیات کئی برسوں سے نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں۔
گلاسگو ٹائمز کے مطابق جمعرات کو سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نمائش سے ہٹائی گئی اشیا میں نیخت نامی مصری پجاری کی باقیات پر مشتمل رنگین تابوت، ایک ممی شدہ مردانہ سر، دایاں پاؤں اور دایاں ہاتھ شامل ہیں، جو مصر کے شہر لکسر کی وادیٔ بادشاہان سے برآمد ہوئے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت عوام کی نظروں میں آیا جب ایک شخص نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو مصری ممی دکھانے لایا تھا لیکن وہاں ممی موجود نہیں تھی۔ اس نے ایکس پر میوزیم کے ایک نوٹس کی تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ باقیات کو “احترام کی علامت کے طور پر” ہٹا دیا گیا ہے۔
میوزیم چلانے والے ادارے گلاسگو لائف نے کہا کہ یہ اقدام عصری میوزیم کے طریقوں کی عکاسی کرتا ہے، اور اس نے جون میں بین الاقوامی کونسل برائے میوزیمز کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ اخلاقی رہنما اصولوں کا حوالہ دیا۔ ان اصولوں میں انسانی باقیات کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادارے کی مسودہ پالیسی تجویز کرتی ہے کہ ایسی نمائشیں صرف اسی صورت میں رکھی جائیں جب مرحومین یا مناسب صورت میں ان کی اولاد کی جانب سے دستاویزی اور باخبر رضامندی موجود ہو۔ گلاسگو لائف کے ترجمان نے کہا کہ ایسی رضامندی کی عدم موجودگی میں ہم سمجھتے ہیں کہ قدیم مصری انسانی باقیات کو نمائش سے ہٹانا مرحومین کے لیے زیادہ باعزت ہے۔
اس فیصلے پر اسکاٹش کنزرویٹو سیاستدان مرڈو فریزر نے تنقید کرتے ہوئے اسے “ووک پاگل پن” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مصری ممیاں بھی ایسے معاشرے کی جانب سے منسوخ کی جا رہی ہیں جو جدید حساسیت کے اس قدر زیرِ اثر ہے کہ اس کا توازن کھو چکا ہے۔ کیمپین فار ریئل ایجوکیشن کے چیئرمین اور برطانوی وزیرِ اعظم کی پالیسی یونٹ کے سابق مشیر کرس میک گورن نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے “نیکی کا دکھاوا اور ووک بکواس” کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں سال پہلے مرنے والوں سے اجازت لینا ممکن نہیں، جبکہ مصر کے میوزیم آج بھی ممی شدہ باقیات کی نمائش کرتے ہیں۔
مصر خود بھی غیر ملکی میوزیمز میں اپنے نوادرات کی نمائش کا دفاع کر چکا ہے۔ مصری سپریم کونسل آف اینٹیکوئٹیز کے سربراہ محمد اسماعیل خالد نے گزشتہ برس کہا تھا کہ قانونی طور پر برطانیہ برآمد کیے گئے ہزاروں نوادرات مصر کے “بہترین سفیر” ہیں جو بین الاقوامی سیاحوں کو ملک کی جانب راغب کرتے ہیں۔ تاہم قاہرہ لوٹے گئے خزانوں کی واپسی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں برٹش میوزیم میں موجود روزیٹا اسٹون اور برلن میں رکھا نفرتیتی کا مجسمہ شامل ہیں۔
گلاسگو لائف نے بتایا کہ وہ کیلون گرو سے مزید آثارِ قدیمہ کی انسانی باقیات ہٹانے پر بھی کام کر رہا ہے، اور اس کے بعد قریبی سینٹ منگو میوزیم سے ایک تابوت اور ممی شدہ باقیات ہٹانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ تنازع مانچسٹر میوزیم کے اسی نوعیت کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے ستمبر میں اسرو نامی مصری خاتون کی 2700 سال پرانی ممی شدہ باقیات کو دو صدیوں سے زائد عرصہ عوامی نمائش میں رکھنے کے بعد ہٹا دیا تھا۔