ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
روس اور یوکرین نے خیرسون ریجن کے شہر الیشکی میں جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بات بتائی۔مقامی جنگ بندی 29 اکتوبر 2026 سے نافذ ہو گی۔ دونوں فریق متفق ہوئے ہیں کہ الیشکی میں لڑائی روک دی جائے تاکہ انسانی امداد پہنچائی جا سکے اور شہریوں کو محفوظ راستے سے نکالا جا سکے۔ایک آزاد امریکی میڈیا ادارہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریقوں کے اقدامات کی نگرانی اور دستاویزی ریکارڈ تیار کرے گا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے اور ان کے نمائندے نے روس اور یوکرین کی قیادت کے ساتھ مل کر مقامی جنگ بندی کی شرائط طے کیں۔ میلانیا ٹرمپ نے باضابطہ ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے ساتھ بات چیت شروع کی اور معاہدے کے مقاصد، طریقہ کار، وقت اور شرائط پر اتفاق کرایا۔کرملین نے بھی میلانیا ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے خیرسون ریجن کے الیشکی میں انسانی آپریشن کے لیے اہم کردار ادا کیا۔روسی صدارتی ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا کہ الیشکی سے رہائشیوں کی انخلاء میں کم از کم کئی دن لگ سکتے ہیں اور جتنے لوگ جانا چاہیں گے وہ جا سکیں گے۔روسی فوج کے جنرل اسٹاف چیف ویلری گیراسیموف نے اعلان کیا کہ روسی افواج 27 اکتوبر 2026 کو صبح 4 بجے ماسکو وقت (1 بجے GMT) سے خیرسون علاقے میں فائر بندی کریں گی تاکہ الیشکی کے قریب انسانی آپریشن ممکن بنایا جا سکے۔ لوگوں کی حفاظت اور ضروری امداد کی فراہمی کے لیے انجینئرنگ ریوکانس کیا جائے گا اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
روسی ہیومن رائٹس کمشنر یانا لانٹراٹووا اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمیتری لوبینٹس نے بھی جنگ بندی کے اوقات طے کرنے میں اہم کام کیا۔ یہ معاہدہ صدر پوتن اور صدر ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی بنیاد پر بنایا گیا۔9 اکتوبر کو صدر ٹرمپ کے ساتھ فون کال میں صدر پوتن نے کہا تھا کہ الیشکی کی انسانی صورتحال پر یانا لانٹراٹووا میلانیا ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہیں گی۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے دورے کے دوران بھی صدر پوتن نے میلانیا ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنے کو کہا تھا۔روسی حکام الیشکی کے رہائشیوں کی مدد اور انخلاء کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔