ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ مغربی یورپ میں حالیہ مظاہروں کی لہر یورپی یونین کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق یورپی ممالک نقل مکانی کے بحران کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ صحافی پاویل زاروبن سے گفتگو میں پوتن نے کہا کہ یورپی اپنی ہی روایات کو ختم کر رہے ہیں، اس لیے وہ انہیں تارکین وطن تک پہنچانے کی صلاحیت اور بھی کم رکھتے ہیں۔ ہفتے کے اختتام پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق مہنگائی اور حکومتوں کی نااہل پالیسیوں سے ناراض مظاہرین کی کئی شہروں میں انسداد ہنگامہ پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ حکومت مخالف بدامنی بڑی حد تک فرانس کے مظاہروں سے متاثر ہے، جو ستمبر میں شروع ہوئے اور پھر دیگر ممالک تک پھیل گئے۔ پوتن نے کہا کہ بعض یورپی رہنما بدامنی کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل نہیں۔ صورتحال کا تجزیہ کرنے اور اس کے اسباب جاننے کے بجائے وہ دوسرے ممالک پر الزام لگاتے ہیں، پہلے امریکا پر اور اب روس پر۔ روسی صدر کے مطابق وہ جلد ہی ہوش میں آ گئے اور روس کے خلاف اپنے روایتی الزامات کی طرف لوٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر ان کا پہلا ردعمل حیرت کا تھا، کیونکہ یہ دعویٰ کرنا کہ روس بڑے یورپی شہروں میں عوامی مظاہروں کو بھڑکا رہا ہے، واقعی حد سے بڑھ جانا ہے۔ ان کے خیال میں یہ رہنماؤں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہیں۔
صدر پوتن کا ماننا ہے کہ یورپ کے پاس تمام تارکین وطن کو معاشرے میں ضم کرنے کے وسائل نہیں، اور اسی وجہ سے بحران پیدا ہوا ہے۔ فرانس مظاہروں کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں فرانسیسی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو ملک بھر میں کم از کم 4 لاکھ 10 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے، جن میں تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار پیرس میں تھے۔
اٹلی بھر میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں، جہاں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر روم، نیپلز اور بولونیا جیسے شہروں میں تشدد کی لہر آئی تھی۔ پولیس نے بے قابو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس استعمال کی۔ بیلجیم کے شہر برسلز اور پرتگال کے شہر لزبن میں بھی بڑے حکومت مخالف مظاہرے ہوئے، جہاں ہزاروں افراد نے بڑھتے کرایوں اور ناقابل برداشت رہائشی اخراجات کے خلاف مارچ کیا۔ اسپین بھی ہفتے کے اختتام کے مظاہروں میں شامل ہو گیا، جہاں میڈرڈ میں پنشنرز کا بڑا مظاہرہ ہوا۔ جمعے کی رات بارسلونا کے مرکز میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور رات بھر میں 100 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔