ماسکو (صداۓ روس)
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ ابھرتا ہوا نیا علاقائی سلامتی نظام کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ادراک کرتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون اور مشترکہ ترقی کا راستہ اختیار کرے۔
یہ بات انہوں نے 27 اکتوبر کو سفارت خانہ پاکستان ماسکو میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں پاکستانی کمیونٹی، روسی تحقیقی اداروں، دانشوروں اور مقامی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو اجاگر کرنا تھا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جس کی سعادت علی اکبر نے حاصل کی۔ اس موقع پر صدر پاکستان آصف علی زرداری کا پیغام ڈپٹی ہیڈ آف مشن گیان چند، وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پولیٹیکل قونصلر حبیب منیر، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا پیغام تھرڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر نے پڑھ کر سنایا۔
پیغامات میں کشمیری عوام کی ثابت قدمی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ تقریب کی نظامت سفارت خانے کی تھرڈ سیکرٹری طیبہ اسلام چوہدری نے انجام دی۔
اپنے خطاب میں فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور ایک نیا علاقائی سلامتی نظام تشکیل پا رہا ہے، جس میں خطے کے ممالک اپنی معاشی اور علاقائی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کریں گے۔
انہوں نے تہران میں ایرانی قیادت کی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی فوجی و سیاسی قیادت کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل کے سلامتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ صدیوں کے دوران یورپ اور مغربی ممالک عالمی سیاست اور اقتصادی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم اب ایشیا اور افریقہ کے ممالک کے لیے اپنے فیصلے خود کرنے کا دور شروع ہورہا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کو فروغ دے۔
فیصل نیاز ترمذی نے کشمیر اور فلسطین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیرینہ مسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں خطوں کے عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چار سے پانچ برس میں ابھرنے والا نیا علاقائی نظام کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بھارت خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا۔ انہوں نے بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے متعلق وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ بھارت خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون اور ترقی کا راستہ اختیار کرتا ہے یا خود کو الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی اپناتا ہے۔
انہوں نے شرکا کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے والی تمام اقوام کی حمایت ضروری ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا: ’’پاکستان اور کشمیر کا مستقبل ایک ہے اور ان شاء اللہ جلد ہی کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔‘‘
تقریب کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدید تاریخ، عوامی جدوجہد اور انسانی حقوق کی صورتِ حال پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ اس کے علاوہ تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں کشمیری عوام کی قربانیوں اور روزمرہ مشکلات کو اجاگر کیا گیا۔ شرکا نے تقریب کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہی بڑھانے اور اس کے منصفانہ حل کی ضرورت اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔
27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کی جموں و کشمیر میں آمد کی یاد میں پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں کشمیری عوام اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ ماسکو میں منعقدہ تقریب میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔