برطانوی ٹینس کھلاڑی کو شکست کے بعد سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکیاں

Tennis player Tennis player

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی ٹینس کھلاڑی جوڈی بیریج کو 16 ماہ بعد ڈبلیو ٹی اے ٹور کے سنگلز مقابلے میں واپسی پر شکست ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 27 سالہ جوڈی بیریج، جو عالمی درجہ بندی میں 474 ویں نمبر پر ہیں، چنئی اوپن کے پہلے راؤنڈ میں بھارتی کھلاڑی ویشناوی اڈکر کے ہاتھوں 3-6، 6-3 اور 7-5 سے شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں ۔ ویشناوی اڈکر نے ایک سیٹ کے خسارے سے شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ جیت لیا ۔

میچ کے بعد جوڈی بیریج نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر موصول ہونے والے پیغامات کی ویڈیو شیئر کی، جن میں توہین آمیز زبان اور قتل کی دھمکیاں شامل تھیں ۔ انہوں نے میچ میں شکست پر قتل کی دھمکیاں موصول ہونے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس ٹور سے واپسی پر میرا خوب استقبال ہوا اور مجھے یاد آ گیا کہ میں نے ٹینس سے دوری کیوں اختیار کی تھی ۔

جرمنی کی ٹینس کھلاڑی ایوا لائس نے جوڈی بیریج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ڈبلیو ٹی اے کو انسٹاگرام پر ٹیگ کرتے ہوئے اہم سوال اٹھایا کہ کھلاڑیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر بدسلوکی روکنے کے لیے آخر کب اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سنگین مسئلے کو مزید نظر انداز نہ کیا جائے اور کھلاڑیوں کو آن لائن ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے ۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال خواتین ٹینس کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا پر 12 ہزار سے زائد توہین آمیز پیغامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ دو سال قبل سگنیفائی گروپ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ توہین آمیز پیغامات میں سے 48 فیصد کے پیچھے غصے میں مبتلا جواری تھے ۔ 2025 میں جواریوں کو تصدیق شدہ آن لائن بدسلوکی کے 42 فیصد واقعات اور سنگین نوعیت کی بدسلوکی کے 59 فیصد کیسز کا ذمے دار قرار دیا گیا ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی ٹینس کھلاڑی کیٹی بولٹر نے بھی 2025 میں برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں ۔ ڈبلیو ٹی اے نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کا تحفظ اس کی “کلیدی ترجیح” ہے اور اس نے بیریج کو چنئی میں اضافی معاونت فراہم کی ہے ۔