جنگ طول پکڑنے سے یوکرین میں افرادی قوت کی شدید قلت

Ukrainian soldiers Ukrainian soldiers

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ مسلح تنازع کے طول پکڑنے کے ساتھ یوکرین کو آبادیاتی تباہی کا خطرہ لاحق ہے۔ ہفت روزہ جریدے کے مطابق 2022 کے بعد سے کیف کے زیر کنٹرول علاقوں کی آبادی تقریباً 37 ملین سے کم ہو کر 27 سے 28 ملین رہ گئی ہے۔ اس وقت تقریباً 3 سے 5 ملین یوکرینی شہری روس میں رہ رہے ہیں، جبکہ 5 ملین سے زائد دیگر ممالک منتقل ہو چکے ہیں۔

کیف میں قائم سینٹر فار اکنامک اسٹریٹجی کے مطابق صرف 43 فیصد پناہ گزین وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 2022 میں یہ شرح 74 فیصد تھی۔ جنگی ہلاکتوں کا تخمینہ 1 لاکھ 50 ہزار لگایا گیا ہے۔

دی اکانومسٹ کے مطابق یوکرین میں شرح پیدائش 2020 میں فی خاتون 1.2 بچوں سے گر کر 0.8 سے 0.9 رہ گئی ہے، جبکہ آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار شرح 2.1 ہے۔ جریدے نے بتایا کہ 2026 میں اموات پیدائشوں سے تین گنا سے زیادہ رہیں۔ ایک یوکرینی ماہر کے مطابق 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں پیدا ہونے والی نسل جدید یوکرین کی تاریخ کی سب سے چھوٹی نسل ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے جریدے نے لکھا کہ ایک حقیقت پسندانہ منظرنامے میں اگلی دو دہائیوں کے دوران آبادی میں سالانہ 0.7 سے 0.9 فیصد کمی ہوگی، اور اگر فوجی کارروائیاں 2030 کی دہائی تک جاری رہیں تو 2040 میں یوکرین کی آبادی تقریباً 25 ملین رہ جائے گی۔ ماہر آبادیات سویتلانا اکسیونووا نے دی اکانومسٹ کو بتایا کہ شرح پیدائش فی خاتون 0.6 بچوں تک بھی گر سکتی ہے۔

یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کے مطابق یوکرین کو 25 لاکھ افراد کی افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک کو غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔