امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ 24 گھنٹوں میں جنگ بندی کا امکان، ٹرمپ

Flags Flags

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ بندی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی پیش کردہ تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق “یہ بہت ممکن ہے کہ ہم ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔” انہوں نے کہا کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی بات چیت ایران کے ان عناصر سے ہو رہی ہے جو معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ تہران اس ڈیل پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ٹرمپ نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر رضامند ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کو ایران سمیت تمام ممالک کے لیے کھول دیا جائے گا اور امریکی فوجی آپریشن “ایپک فیوری” بھی ختم کر دیا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکا مزید بڑے حملے کرے گا اور ایران پر کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر جائیں گی۔

دوسری جانب ایک امریکی اخبار سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست امن مذاکرات کے لیے فوری طور پر آمنے سامنے بیٹھنے یا مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں اسلام آباد جانے کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔