ڈچ کروز شپ پر ہنٹا وائرس پھیلنے کا دعویٰ، 3 افراد ہلاک

FILE PHOTO: Pandemic prevention workers in protective suits get ready to enter an apartment building that went into lockdown as coronavirus disease (COVID-19) outbreaks continue in Beijing, December 2, 2022. REUTERS/Thomas Peter/File Photo

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایک ڈچ کروز شپ پر ہنٹا وائرس پھیلنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر وائرس سے متاثر ہو کر تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ انسان سے انسان میں منتقلی کے ابتدائی شواہد بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جہاز پر 28 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ بتایا گیا ہے کہ 24 اپریل کو Saint Helena میں بھی درجنوں مسافر جہاز سے اترے تھے، جس کے بعد صحت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا۔

World Health Organization کے سربراہ Tedros Adhanom Ghebreyesus نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کروز شپ پر ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ کسی عالمی وبا کے آغاز کی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنٹا وائرس عام طور پر قریبی اور انتہائی ذاتی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور دیگر جوندروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ اطلاعات میں انسان سے انسان منتقلی کے دعوؤں نے طبی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے متاثرہ جہاز، مریضوں کی تفصیلات یا مزید حفاظتی اقدامات سے متعلق مکمل معلومات جاری نہیں کی گئیں۔