ماسکو (صداۓ روس)
ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن، فضائی رابطوں کے امکانات روشن
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز کے امکانات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے ساتھ براہِ راست فضائی رابطوں کے لیے مضبوط بنیادیں تیزی سے قائم ہو رہی ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی رابطوں کی ضرورت اور امکانات پر زور دے چکے ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے یہ بات صداۓ روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کے سوال کے جواب میں کہی، جس میں پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کے 78 سال مکمل ہونے اور براہِ راست پروازوں کے آغاز سے متعلق استفسار کیا گیا تھا۔ ماریا زاخارووا نے کہا کہ روس، پاکستان کو جنوبی ایشیا میں اپنا قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان گزشتہ برس جنیوا اور اشک آباد میں ہونے والی ملاقاتوں نے دوطرفہ تعلقات کو نئی تقویت دی، جبکہ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان رابطے بھی مسلسل جاری ہیں۔
روسی ترجمان نے توجہ دلائی کہ حال ہی میں روسی وزیر خارجہ اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات اور خلیج فارس کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے روس-پاکستان بین الحکومتی کمیشن کے دسویں اجلاس نے تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور انسانی شعبوں میں تعاون کو نئی رفتار دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس اس وقت بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور “شمال-جنوب” کے تحت پاکستان کے ساتھ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک تعاون پر بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے، جو مستقبل میں براہِ راست فضائی رابطوں کے آغاز کے لیے بھی اہم بنیاد ثابت ہوگا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون جلد براہِ راست پروازوں کے عملی آغاز کی راہ ہموار کرے گا۔