اطالوی وزیرِاعظم کی نازیبا تصاویر بنانے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ

Giorgia Meloni Giorgia Meloni

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی اپنی جعلی تصاویر پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو ایک “خطرناک ہتھیار” قرار دیا ہے جو کسی بھی شخص کو نقصان پہنچانے اور گمراہ کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اطالوی وزیرِاعظم نے منگل کو سوشل میڈیا پر اپنی ایک جعلی تصویر شیئر کی جو حالیہ دنوں میں آن لائن گردش کر رہی تھی۔ تصویر میں انہیں نامناسب لباس میں دکھایا گیا تھا۔
جارجیا میلونی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “مجھے ماننا پڑے گا کہ جس شخص نے یہ تصاویر بنائیں، کم از کم اس تصویر میں اس نے مجھے حقیقت سے بہتر دکھایا ہے۔”
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی ایک خطرناک ذریعہ ہے کیونکہ یہ لوگوں کو دھوکا دینے، گمراہ کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں اپنا دفاع کر سکتی ہوں، لیکن بہت سے لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔”
میلونی نے عوام کو مشورہ دیا کہ کسی بھی تصویر یا معلومات پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور بغیر تحقیق کے مواد شیئر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ “آج یہ میرے ساتھ ہو رہا ہے، کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔”
وزیرِاعظم نے اپنی پوسٹ میں ایک سوشل میڈیا صارف کا ردعمل بھی شامل کیا، جس نے جعلی تصویر کو حقیقی سمجھتے ہوئے اسے “شرمناک” اور “سرکاری عہدے کے خلاف” قرار دیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جارجیا میلونی کو اس قسم کی جعلی اور جنسی نوعیت کی تصاویر کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ سال بھی کئی معروف خواتین شخصیات کی تبدیل شدہ تصاویر ایک فحش ویب سائٹ پر وائرل کی گئی تھیں۔
اس کے بعد اطالوی حکومت نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ایسے ڈیپ فیک مواد کو جرم قرار دیا گیا جو کسی فرد کو “غیر منصفانہ نقصان” پہنچائے۔
2024 میں جارجیا میلونی نے دو افراد کے خلاف 100 ہزار یورو ہرجانے کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے وزیرِاعظم کی جعلی ویڈیوز بنا کر ایک امریکی فحش ویب سائٹ پر شائع کیں۔
دنیا بھر میں خواتین سیاست دانوں کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی فحش مواد اور جنسی نوعیت کی تصاویر کا بڑھتا ہوا سامنا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ٹیگز: